لاہور: (پاک ترک نیوز)پنجاب کے آلو کے کاشتکاروں اور آزاد زرعی ماہرین نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید پیداواری اضافے، اندرونِ ملک طلب میں جمود اور برآمدی مواقع کے سکڑنے کے باعث آلو کی منڈی تیزی سے بیٹھتی جا رہی ہے، جس سے کسانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کا فوری حل سبسڈی کے ساتھ آلو کی برآمدات ہے۔گزشتہ چند ماہ سے افغانستان بارڈر بند ہونے کے باعث پاکستان میں آلو کی قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر آ چکی ہیں۔ ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور اور گرد و نواح کے اضلاع میں کسانوں اور محققین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کئی علاقوں میں نئی فصل کی مکمل آمد سے قبل ہی منڈی بیٹھ چکی ہے۔
تھوک قیمتیں پیداواری لاگت سے بھی نیچے گر گئی ہیں، جس کے باعث بعض کسان مزید نقصان سے بچنے کے لیے کھڑی فصل کو ہل چلا کر مٹی میں ملا رہے ہیں۔ ساہیوال ڈویژن کے تین اضلاع میں آلو 20 سے 25 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے اوکاڑہ، پاکپتن، ساہیوال، قصور، خانیوال اور وہاڑی کے کاشتکاروں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا کہ آلو کے کسان مکمل طور پر “تباہ” ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کولڈ اسٹوریج میں رکھا گیا 60 کلو کا تھیلا کھلے بازار میں صرف 600 سے 700 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ صرف ٹرانسپورٹ کی لاگت ہی 400 روپے بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث بہت سے کسان کولڈ اسٹوریج سے اپنی فصل نکالنے سے قاصر ہیں، جبکہ آلو کے مالکان بھی اسٹاک ریلیز کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔کسانوں نے فی ایکڑ 2 لاکھ 70 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کی، مگر وہ اپنی لاگت بھی پوری نہیں کر پا رہے۔ کھلے بازار میں 20 سے 25 روپے فی کلو قیمت پر کسانوں کو فی ایکڑ 2 لاکھ 35 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے 2025 کو آلو کے کاشتکاروں کے لیے “تباہ کن سال” قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کے ساتھ تجارت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ تاریخی طور پر افغانستان کو برآمدات پاکستان کی مجموعی آلو پیداوار کا نسبتاً کم حصہ رہی ہیں، تاہم ان کی نفسیاتی اہمیت زیادہ رہی ہے۔ کھلی سرحدوں سے قیاس آرائی پر مبنی خریداری اور ذخیرہ ممکن ہوتا تھا، جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملتی تھی، مگر اس سیزن میں یہ سہارا ختم ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سیزن میں آلو کی کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد بڑھا، جس کی وجہ زیادہ پیداوار دینے والی مگر مہنگی فصل سے منافع کی امید میں کسانوں کا رجحان رہا۔ آزاد اندازوں کے مطابق فی ایکڑ لاگت 3 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو سرکاری تخمینے 2 لاکھ 66 ہزار روپے سے کہیں زیادہ ہے۔
بعض منڈیوں میں فارم گیٹ قیمت 10 سے 15 روپے فی کلو تک گرنے سے کسان کٹائی سے قبل ہی نقصان میں جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آلو کی سالانہ اندرونِ ملک طلب تقریباً 62 لاکھ ٹن ہے، جبکہ رواں سیزن کی پیداوار اس سے دگنی متوقع ہے۔ خوش آئند اندازوں کے باوجود—جن میں افغانستان کو 3 لاکھ 50 ہزار ٹن اور دیگر ممالک کو 4 لاکھ ٹن برآمدات شامل ہیں—اضافی پیداوار صرف عارضی طور پر جذب ہو سکے گی اور قیمتیں چند ہفتوں کے لیے ہی سنبھل پائیں گی۔












