
از: سہیل شہریار
امریکہ نے بدھ کے دن سے اپنے معروف ترین ایک سینٹ کے سکے پینی کی پیداوار کو ختم کر دیاہے۔ جو 230 سال سے زیادہ عرصے تک امریکی ثقافت و معیشت کا مؤثر حصہ رہنے کے بعد اب تقریباً بیکار ہو گیا تھا۔
جب اسے 1793 میں متعارف کرایا گیا تو ایک پینی ایک بسکٹ، ایک موم بتی یا کینڈی کا ایک ٹکڑا خرید سکتا تھا۔ مگر اب ان میں سے اکثر کو جار یا ردی کی درازوں میںڈالنے کے سوا کوئی مصرف نہیں ہے۔ جبکہ ان میں سے ہر ایک کو بنانےپر تقریباً 4 سینٹ خرچ ہوتے ہیں۔
امریکہ کے خزانچی ٹریژر برینڈن بیچ نے فلاڈیلفیا میں یو ایس منٹ میں آخری پینی بنانے کے لیے بٹن دبانے سے پہلے کہا کہ "خدا امریکہ کا بھلا کرے۔ ہم پینی کی پیداوار بند کر کے ٹیکس دہندگان کو 56 ملین ڈالر بچانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوںپینی ابھی بھی گردش میں ہیں اور قانونی ٹینڈر رہیں گے۔ لیکن اب نئے نہیں بنائے جائیں گے۔جبکہ دھالے گئے پینی کے چند آخری سکے ایک ٹرے میں سجا لئے گئے ہی جنہیں نیلام کیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ موسم گرما کے دوران زیادہ تر پنی کی پیداوار ختم ہو گئی۔ آخری پریسنگ کے دوران، ٹکسال کے کارکن خاموشی سے فیکٹری کے فرش پر ایسے کھڑے تھے جیسے کسی پرانے دوست کو الوداع کہہ رہے ہوں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس سے قبل 1857 میں آدھا پینی آخری امریکی سکہ تھا جسے اس کی کم قیمت کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔
پینی کی پیداوار کی بندش صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےحکم سے عمل میں آئی۔ جنہوں نے ایک آن لائن پوسٹ میں لکھا تھا کہ بہت عرصے سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے پینی بنائے ہیں جس کی قیمت ہمیں 4 سینٹ سے زیادہ پڑتی ہے۔ "یہ بہت فضول ہے!”
پھر بھی، بہت سے امریکیوں کی جانب سے پینی کی پیداوار کی یوں اچانک بندش سے صدمے سے دوچار ہیںکیونکہ بہت سوں کی اس سےپرانی یادیں وابستہ ہیں۔ اور کئی ایسے ہیں جوپینیوں کو جمع کرنے کو خوش قسمت یا تفریح سمجھتے ہیں۔ جبکہ کچھ خوردہ فروشوں نے گلہ کیا ہے کہ پینی کی یوں پیداوار بند ہونے سے انکے کاروبار پر اثر پڑا ہے ۔کیونکہ یہ کام اچانک کیا گیاتھا اور ان کے پاس لین دین کو سنبھالنے کے بارے میں کوئی حکومتی رہنمائی نہیں تھی۔












