اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے معروف پاکستانی فلم ساز مو نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو ننانویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فلم کی دوڑ کے لیے باضابطہ طور پر منتخب کرلیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے اس زمرے کے لیے کسی دستاویزی فلم کو باضابطہ طور پر نامزد کیا ہے۔فلم میں اگست دو ہزار تئیس میں خیبرپختونخوا کے علاقے بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار حادثے اور ریسکیو آپریشن کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
حادثے میں ایک کیبل ٹوٹنے کے بعد چھ اسکول کے بچے اور دو بالغ افراد تقریباً نو سو فٹ بلندی پر کیبل کار میں پھنس گئے تھے۔ ان کی جان بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔مو نقوی کی فلم میں عینی شاہدین کی ویڈیوز، متاثرہ افراد کے بیانات اور ریسکیو آپریشن میں شریک افراد کے ساتھ فلمائی گئی مناظر کو شامل کیا گیا ہے۔ فلم کو دستاویزی فلم اور سنسنی خیز انداز کا امتزاج قرار دیا گیا ہے۔’ہینگنگ بائی اے وائر‘ رواں سال سن ڈانس فلم فیسٹیول میں عالمی سنیما دستاویزی مقابلے میں پیش کی گئی، جبکہ بعد ازاں اسے ٹرائ بیکا، سیئٹل انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور آسٹریلیا کے سڈنی فلم فیسٹیول میں بھی دکھایا گیا۔فلم ساز مو نقوی نے پاکستان کی نمائندگی کے لیے فلم کے انتخاب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقی سانحے کی کہانی ہے، جس میں حقیقی مناظر کو محفوظ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز ، پاکستان نے ہاکی اور والی بال میں کانسی کے تمغے اپنے نام کر لیے
پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی نائب چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری کے مطابق فلم کا انتخاب پاکستانی دستاویزی فلم سازی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے اور شمالی پاکستان کی ایک غیر معمولی کہانی کو آسکر کی بین الاقوامی فلموں کی دوڑ میں لے کر آیا ہے۔فلم ایور ونڈر اسٹوڈیو، یونیورسل پکچرز کنٹینٹ گروپ، مائنڈ ہاؤس پروڈکشنز اور سکسٹی فورٹ اسٹریٹ میڈیا نے تیار کی ہے۔فلم کی برطانیہ میں سینما تقسیم ڈاگ ووف اور امریکا میں ابراموراما کے پاس ہے، جبکہ پیراماؤنٹ پلس پر اس کی نمائش رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔











