
از: سہیل شہریار
پنجابی کی کہاوت ہے کہ بارہ برس بعد روڑی یعنی کچرے کی بھی سنی جاتی ہے۔ چنانچہ بر سہا برس سے زبوں حالی کا شکار ملک کے محکمہ ڈاک کی بھی سنی گئی ہے جو اب پاکستان پوسٹ کہلاتا ہے ۔ اب پاکستان پوسٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ساڑھے چھ ارب روپے سے زیادہ کی لاگت سے ایک بڑے ڈیجیٹل اوو
ر ہال کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے "آٹومیشن آف پوسٹ آفس” پروجیکٹ کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ملک بھر میں پوسٹل سروسز کو جدید بنانا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ6ارب 64کروڑ 40لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ جس کے لئے ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ بینک آف کوریا (کیویمس) مالی اعانت فراہم کرے گا۔ اس پراجیکٹ سے ملک بھر میں دو ہزار761 ڈاک خانوں کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔ مالی خدمات کو اپ گریڈ کیا جائے گا اورساتھ ہر طرح کی پوسٹل سروسزکا معیار بہتر بنایا جائے گا۔
پوسٹل حکام کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان پوسٹ کو کئی برسوںسے گرتی ہوئی آمدنی سےنکا ل کر ایک منافع بخش خدماتی کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ادارے کو حالیہ برسوں میں اپنی آمدنی میں 65 فیصدکمی کا سامنا کرنا پڑاہے۔جس کی بنیادی وجہ جدید سروسز کا فقدان ہے۔ چنانچہ نئے آٹومیشن پلان کا مقصد جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر، سروس ڈیلیوری کو بہتر بنا کر، اور ملک کے مالیاتی اور مواصلاتی نیٹ ورک میں پاکستان پوسٹ کے کردار کو مضبوط بنا کر آمدن کے اس فرق کوپورا کرنا ہے۔
پاکستان پوسٹ کی آٹو میشن کے منصوبے کی منظوری اس وقت سامنے آئی جب سی ڈی ڈبلیو پی نے اپنے گذشتہ ہفتے کے اجلاس میں ساڑھے 34ارب روپے لاگت کے سات ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ دو بڑے منصوبوں سمیت مجموعی طور پر 44ارب 62کروڑ مالیت کے نو منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے اپنی سفارشا ت حتمی منظوری کے لئے قومی اقتصادی کونسل (ای سی این ای سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کو ارسال کیں۔












