لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان نے خلا میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔ یہ صرف ایک سائنسی پیش رفت نہیں بلکہ خطے میں اسٹریٹجک توازن کو مضبوط کرنے کا اہم قدم ہے۔ 12 فروری 2026ء کو پاکستان نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔یہ سیٹلائٹ چین کے یانگ جیانگ سی شور لانچ سینٹر سے اسمارٹ ڈریگن-3 راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا اور کامیابی سے اپنے مقررہ مدار میں پہنچ گیا۔
سپارکو کے ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹ مکمل طور پر مقامی سطح پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی خود انحصاری کا واضح ثبوت ہے۔یہ جدید سیٹلائٹ ہائی ریزولوشن تصاویر فراہم کرے گا، جنہیں زرعی منصوبہ بندی، شہری توسیع، قدرتی وسائل کے انتظام، ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں استعمال کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ناصرف سائنسی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ سیلاب، زلزلے اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔یہ مشن پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک اور روشن مثال ہے۔ چین نے ناصرف لانچ سہولت فراہم کی بلکہ ٹریکنگ، ٹیلی میٹری اور کمانڈ سپورٹ بھی دی۔ پہلی بار کسی پاکستانی سیٹلائٹ کو چین کے سمندری موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا، جو تکنیکی جدت کی علامت ہے۔
خطے میں جہاں روایتی حریف بھارت بھی اپنے خلائی پروگرام کو وسعت دے رہا ہے، وہاں پاکستان اور چین کا تعاون اسٹریٹجک توازن کو مضبوط کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلا میں برتری صرف سائنسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی منصوبہ بندی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس کامیابی کو پاکستان کی مسلسل پیش رفت قرار دیتے ہوئے سپارکو کے سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔ EO-2 کی شمولیت کے بعد پاکستان کا سیٹلائٹ فلیٹ مزید مضبوط ہو گیا ہے، جو مستقبل کی منصوبہ بندی اور قومی خود مختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔












