اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) عالمی سطح پر غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس، جن میں حوالہ اور دیگر غیر رجسٹرڈ مالیاتی خدمات شامل ہیں، اب پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور جدید ہوچکے ہیں اور غیرقانونی دولت چھپانے کے لیے ورچوئل اثاثوں اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہے ہیں۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) اور آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (OECD) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 80 فیصد سے زائد رپورٹنگ ممالک نے زیرِ زمین بینکاری اور حوالہ نیٹ ورکس کو پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے اہم ذرائع یا طریقوں میں شمار کیا ہے۔رپورٹ میں پاکستان اور بھارت سمیت تقریباً 45 ممالک اور اداروں سے حاصل معلومات کی بنیاد پر غیرقانونی رقوم کی منتقلی کے مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ بعض کیسز میں صرف چند ماہ کے دوران 50 کروڑ یورو سے زائد رقم زیرِ زمین بینکاری اور حوالہ نظام کے ذریعے لانڈر کیے جانے کی نشاندہی کی گئی۔رپورٹ میں پاکستان سے متعلق عمان کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک غیرقانونی حوالہ نیٹ ورک سوشل میڈیا اور موبائل منی ٹرانسفرز کے ذریعے پاکستان کو رقوم منتقل کر رہا تھا۔ عمانی حکام نے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے غیر ملکی کرنسی اور ترسیلاتِ زر کی خدمات فراہم کرنے والے افراد کی نشاندہی کی۔ تحقیقات کے دوران 6 مشتبہ افراد پر مشتمل ایک نیٹ ورک سامنے آیا، جس میں تقریباً 72 ہزار 293 ڈالر کے لین دین کا ریکارڈ ملا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کو پٹرول کے بعد بجلی کا بھی جھٹکا، فی یونٹ 2 روپے 58 پیسے مہنگی
FATF اور OECD کے مطابق حوالہ نیٹ ورکس اب واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسی انکرپٹڈ ایپس کے ساتھ ساتھ بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس، فن ٹیک ایپس، فوری ادائیگی کے نظام اور ورچوئل اثاثوں، خصوصاً اسٹیبل کوائنز، کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 70 فیصد جواب دہندگان نے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے حوالہ نظام کے ڈیجیٹل ہونے کی نشاندہی کی۔ بعض نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز اور باقاعدہ "حوالہ ایپس” بھی تیار کر رہے ہیں، جس سے غیرقانونی رقوم کو چھپانا اور سرحدوں کے پار منتقل کرنا مزید آسان ہوگیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورکس اب صرف منشیات یا اسمگلنگ سے حاصل رقم تک محدود نہیں رہے بلکہ فراڈ، سائبر کرائم، دہشت گردوں کی مالی معاونت، غیرقانونی گیمنگ اور دیگر منظم جرائم سے حاصل آمدنی کو بھی منتقل اور چھپانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔











