واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا کا ایک ایسا طیارہ جو بظاہر فوجی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، اب ایک انتہائی حساس دفاعی مشن کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ ایک لاکھ 64 ہزار پاؤنڈ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والے سپر ہرکیولیز کو جدید مواصلاتی نظام سے لیس کرکے امریکی جوہری افواج تک اہم ترین فوجی احکامات پہنچانے کے قابل بنایا جائے گا۔ اس نئے طیارے کا نام ہے ای 130 جے فینکس ٹو۔ آخر یہ طیارہ امریکی دفاعی نظام کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔امریکی بحریہ کے نئے جوہری مواصلاتی طیارے کی تیاری میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سی 130 جے 30 سپر ہرکیولیز طیارہ 15 اکتوبر کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر میریٹا میں لاک ہیڈ مارٹن کی تنصیب پر پہنچ گیا، جہاں اسے جدید مواصلاتی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائے گا۔
یہ طیارہ مستقبل میں امریکی بحریہ کے ای 6 بی مرکری طیاروں کی جگہ لے گا، جو امریکی قومی قیادت اور جوہری افواج کے درمیان اہم تزویراتی ہدایات پہنچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔یہ کوئی عام تبدیلی نہیں، کیونکہ نئے مشن کے لیے طیارے میں خصوصی مواصلاتی آلات نصب کیے جائیں گے اور اس کے نظام میں بڑی تکنیکی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔سی 130 جے 30 کا زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن تقریباً 74 ہزار کلوگرام ہے۔ چار طاقتور ٹربوپراپ انجنوں سے چلنے والا یہ طیارہ بنیادی طور پر بھاری فوجی سامان کی ترسیل کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اب اسے انتہائی حساس مواصلاتی ذمہ داری سونپنے کی تیاری ہے۔جدید جنگ میں صرف میزائل اور جنگی طیارے ہی اہم نہیں، بلکہ ان تک بروقت اور قابلِ اعتماد احکامات پہنچانا بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اپنے جوہری مواصلاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے اس منصوبے پر کام کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ ، سرکاری ریکارڈ میں غلطی کی نشاندہی کرنے پر شہری کے خلاف فوجداری کارروائی کالعدم
تاہم طیارے کی تیاری ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ خصوصی آلات کی تنصیب، تکنیکی جانچ اور آزمائشوں کے بعد ہی اسے عملی خدمات کے لیے تیار کیا جاسکے گا۔ای 130 جے فینکس ٹو مستقبل میں امریکی جوہری افواج کے مواصلاتی نظام کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید دفاعی حکمت عملی میں ہتھیاروں کے ساتھ محفوظ اور مؤثر مواصلاتی رابطے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔












