لاہور( پاک ترک نیوز) جگر کی خطرناک بیماری کے علاج کی امید روشن ہو گئی۔۔کیا ایک نئی دوا لاکھوں مریضوں کی زندگی بدل سکتی ہے؟
امریکی سائنس دانوں نے جانوروں پر ہونے والے تجربات میں ایسی دوا تیار کر لی ہے، جس نے جگر کی شدید چربی والی بیماری کو نمایاں حد تک ختم کر دیا۔ اگر آئندہ انسانی آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو یہ طب کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
جگر کی شدید چربی والی بیماری دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں شامل ہے، جو وقت کے ساتھ جگر کے سکڑنے، جگر کے سرطان اور جگر کے مکمل طور پر ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ اب تک اس بیماری کے مؤثر علاج کے محدود امکانات موجود تھے، تاہم نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔
امریکی ماہرین کی تیار کردہ تجرباتی دوا نے جانوروں پر کیے گئے تجربات میں حیران کن نتائج دکھائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ دوا براہِ راست جگر پر حملہ کرنے کے بجائے آنتوں کی خرابی دور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں جگر خود کو دوبارہ صحت مند بنانا شروع کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں میں موجود نقصان دہ جراثیم بعض زہریلے مادے پیدا کرتے ہیں، جو خون کے ذریعے جگر تک پہنچ کر سوزش اور بیماری کو بڑھاتے ہیں۔ نئی دوا ان جراثیم کی تعداد کم کرتی ہے، آنتوں کی حفاظتی تہہ مضبوط بناتی ہے اور نقصان دہ مادوں کو جگر تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے میڈیکل اسٹورز پر ناقص ادویات کی فروخت ،ڈریپ ان ایکشن
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دوا نے نہ صرف جگر کی سوزش کم کی بلکہ جگر کی ساخت اور کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی۔ انسانوں سے مشابہت رکھنے والے جانوروں میں بھی اس کے نتائج حوصلہ افزا رہے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں یہ دوا انسانوں کے لیے بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس دوا کے فوائد صرف جگر تک محدود نہیں۔ ابتدائی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ دل اور خون کی نالیوں کی بعض بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ آنتوں کی سوزش سمیت دیگر امراض میں بھی اس پر مزید تحقیق جاری رہے گی۔
اگر آنے والے مراحل میں انسانی آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو یہ تجرباتی دوا جگر کی شدید چربی والی بیماری کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جو دنیا بھر کے لاکھوں مریضوں کے لیے نئی امید اور بہتر زندگی کا پیغام بن سکتی ہے۔









