لاہور: (پاک ترک نیوز)پاکستان کرکٹ کا ایک بڑا نام، ایک ایسا کھلاڑی جس نے کبھی اسٹیڈیمز کو اپنے نعروں سے گونجایا، آج وہی کھلاڑی لائیو ٹی وی پر آبدیدہ ہوگیا۔
جی ہاں، سابق قومی اوپنراحمد شہزاد پی ایس ایل میں سلیکٹ نہ ہونے پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔نجی ٹی وی پروگرام میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ تین سال سےپاکستان سپر لیگ کا حصہ نہیں بن سکے، تو ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
احمد شہزاد نے کہا کہ ساتھی کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھ کر خوشی تو ہوتی ہے، لیکن اپنے لیے دل ٹوٹ جاتا ہے۔
بات کرتے کرتے ان کی آواز بھرائی اور پھر آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔سب سے جذباتی لمحہ وہ تھا جب انہوں نے اپنے 9 سالہ بیٹے کا ذکر کیا۔
احمد شہزاد نے کہا، "میرا بیٹا مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ میرے ساتھ سوتا ہے اور مجھے تسلی دیتا ہے کہ بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے۔”
یہ الفاظ سن کر اسٹوڈیو میں سناٹا چھا گیا۔ میزبان بھی اپنی نشست چھوڑ کر انہیں گلے لگانے پہنچ گئے۔
یاد رہے کہ احمد شہزاد نے 2023ء میں پی ایس ایل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں پی ایس ایل 10 کے ڈرافٹ میں نام شامل ہونے پر انہوں نے پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
2016 ء سے 2021 ء تک پانچ سیزنز میں انہوں نے 45 میچز کھیل کر 1077 رنز اسکور کیے۔ سوال یہ ہے کیا ایک باصلاحیت کھلاڑی کے کیریئر کا اختتام ایسے ہونا چاہیے؟ کیا احمد شہزاد کو ایک اور موقع ملنا چاہیے؟ یا وقت واقعی گزر چکا ہے؟












