یروشلم: (پاک ترک نیوز) 2025 میں اسرائیل کی غزہ میں حماس کے خلاف جاری جنگ کے سائے تلے 69 ہزار سے زائد اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جس کے نتیجے میں مسلسل دوسرے سال بھی اسرائیل کو منفی ہجرتی توازن کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بات اسرائیل کے سنٹرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس (CBS) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتائی۔CBS کے مطابق، 2025 کے دوران اسرائیل کی مجموعی آبادی میں صرف 1.1 فیصد اضافہ ہوا اور آبادی بڑھ کر ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھتر ہزار (10.178 ملین) تک جا پہنچی۔
یہ شرح نمو گزشتہ سال کے برابر رہی، جو اسرائیل کی تاریخ میں آبادی کے سست ترین اضافے والے برسوں میں سے ایک ہے۔ اسی روز شائع ہونے والی تاب سینٹر فار سوشل پالیسی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی شرح 0.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو پہلی بار 1 فیصد سے بھی کم ہوگی۔
CBS کے مطابق 2025 میں تقریباً 24 ہزار 600 نئے مہاجرین اسرائیل آئے، جو 2024 کے مقابلے میں 8 ہزار کم ہیں۔ یہ تعداد امیگریشن اینڈ ابزورپشن وزارت کی جانب سے اعلان کردہ 21 ہزار 900 سے بھی زیادہ ہے۔
مہاجرت میں کمی کی بڑی وجہ روس سے آنے والے یہودیوں کی تعداد میں نمایاں کمی بتائی گئی ہے، کیونکہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد روس سے ہجرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔
ادھر 19 ہزار اسرائیلی شہری طویل عرصے بعد بیرونِ ملک سے واپس آئے جبکہ 5 ہزار 500 افراد خاندانی ملاپ کے تحت اسرائیل پہنچے۔ اس طرح مجموعی طور پر اسرائیل کو تقریباً 20 ہزار افراد کے خالص نقصان کا سامنا رہا۔
یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب اسرائیل سے جانے والوں کی تعداد آنے والوں سے زیادہ رہی۔ 2024 میں 82 ہزار 700 اسرائیلی ملک چھوڑ گئے تھے، جو آنے والوں سے تقریباً 50 ہزار زیادہ تھے۔آبادیاتی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی تاریخ میں عموماً یہودیوں کی اسرائیل آمد، روانگی سے زیادہ رہی ہے، سوائے 1950 اور 1980 کی چند مدتوں کے۔
تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان بدلتا نظر آ رہا ہے۔ماہرین اس تبدیلی کی وجہ اسرائیل کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران کو قرار دے رہے ہیں، جن میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ اور حکومت کی عدالتی اصلاحات شامل ہیں، جنہیں ناقدین جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی فرد کو اُس وقت ہی تارکِ وطن شمار کیا جاتا ہے جب وہ سال کا زیادہ حصہ اسرائیل سے باہر گزارے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال کے اعداد و شمار میں شامل کئی افراد دراصل 2024 میں ہی ملک چھوڑ چکے تھے۔
CBS کے مطابق اسرائیل کی مجموعی آبادی ایک کروڑ 17 لاکھ 80 ہزار میں شامل ہیں:77 لاکھ 71 ہزار یہودی اور دیگر (جن میں غیر عرب عیسائی اور وہ افراد شامل ہیں جن کی مذہبی درجہ بندی نہیں) — 76.3 فیصد21 لاکھ 47 ہزار عرب شہری — 21.1 فیصدجبکہ 2 لاکھ 60 ہزار افراد (تقریباً 2.6 فیصد) غیر ملکی قرار دیے گئے ہیں۔
2025 کے دوران 1 لاکھ 82 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی، جن میں سے 76 فیصد یہودی ماؤں اور 24 فیصد عرب ماؤں کے ہاں ہوئیں۔ اسی عرصے میں 50 ہزار افراد کا انتقال ہوا، جو 2024 کے 52 ہزار اموات کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2025 کے دوران اسرائیل کی آبادی میں خالص اضافہ صرف 1 لاکھ 12 ہزار ریکارڈ کیا گیا۔












