اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات اور طبی ریکارڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ خود قانون کی خلاف ورزی کرے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟
وکیل عزیز بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہے۔
جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ملاقات کرائی جائے، وہ میڈیا سے بات نہیں کریں گی۔
جسٹس نعیم افغان نے مزید کہا کہ ایک بات طے کرلیں کہ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی وفد کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات کل طےپا گئی
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس اور گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی اپنے بچوں سے بات کرانے سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی۔











