البرٹا(پاک ترک نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں دو تہائی سے زائد ووٹرز نے ملک سے الگ ہونے کے بجائے کینیڈا کا حصہ رہنے کے حق میں رائے دی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اس فیصلے سے وزیراعظم مارک کارنی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے اور کینیڈا کی معیشت مضبوط بنانے کے لیے سیاسی حمایت مل گئی ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے ووٹنگ سے قبل کیلگری میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ کینیڈا کے مستقبل کو سامنے رکھ کر ووٹ دیں۔ ووٹنگ کے نتائج واضح ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ عوام نے اتحاد، مشترکہ ترقی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔
البرٹا کینیڈا کا اہم ترین صوبہ ہے، جہاں ملک کے بیشتر ثابت شدہ تیل کے ذخائر کے علاوہ قدرتی گیس اور معدنی وسائل بھی موجود ہیں۔ امریکی تجارتی دباؤ کے دوران کینیڈا اپنی معیشت کو مضبوط بنانے، تجارت کے نئے راستے تلاش کرنے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
البرٹا میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کرنے والی مہم کے اہم رہنما تھامس لوکاشک نے کہا کہ اس فیصلے سے دنیا کو مضبوط پیغام جائے گا۔ ان کے مطابق کینیڈا کے اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششوں کا جواب عوام نے اپنے فیصلے سے دے دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کے بیانات دیتے رہے ہیں۔ البرٹا میں ووٹنگ کے روز بھی انہوں نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذاقاً کہا کہ وہ کینیڈا کو برفانی ہاکی کھیلنے اور اس کا قومی ترانہ گانے کی اجازت دیں گے۔ تاہم کینیڈا میں ان بیانات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
البرٹا کی علیحدگی کے حامی بعض رہنماؤں نے گزشتہ سال واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے حکام سے تین مرتبہ ملاقاتیں کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ایک آزاد البرٹا کے ممکنہ معاشی فوائد، تیل کی ترسیل اور امریکا کے راستے بحرالکاہل تک پائپ لائن کی تعمیر جیسے امور زیر بحث آئے تھے۔
دوسری جانب کینیڈا کی حکومت بحرالکاہل کے ساحل تک تیل کی پائپ لائن تعمیر کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے، جس سے البرٹا کے تیل کو ایشیائی منڈیوں تک پہنچانے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ اس منصوبے کا ایک مقصد امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنا بھی ہے۔
مارک کارنی نے البرٹا میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ نئی پائپ لائن امریکا پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گی۔ اس بیان پر اجتماع میں موجود افراد نے بھرپور تالیاں بجائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ون ڈے درجہ بندی جاری، بابر اعظم ساتویں، ابرار احمد دوسرے نمبر پر برقرار
ماہرین کے مطابق البرٹا میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں آنے والا فیصلہ ملکی اتحاد کے لیے اہم ہے، تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، سرمایہ کاری پر منافع اور پالیسیوں میں تسلسل پر بھی مرکوز رہے گی۔










