
از : سہیل شہریار
پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کی صنعت نے حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کی ہے اور اس وقت ڈیڑھ درجن کے قریب جاپانی ،چینی اور یورپی کمپنیاں ملک میںگاڑیوں کی اسمبلنگ میں مصروف ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو انکے ساتھ معاہدوں میں پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی برآمد کا بھی پابند کیا گیا ہے ۔تاہم ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس پابندی پر عملدرآمد پر توجہ نہیں دی ۔ اور اس پابندی میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا۔ مگر اب موجودہ حکومت کی جانب سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو پاکستان میں تیار شدہ گاڑیوں کی برآمد میں مزید توسیع نہ دینے کے فیصلے کے بعدپچھلے تین برسوں میں 20 ممالک کو 434 مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیاں برآمد کرتے ہوئے ایک سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=GwusNY5eaYU
وزارت صنعت و پیداوار کے اعداد وشمار کے مطابق برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں انجن کی مختلف صلاحیتوں کے ماڈل شامل تھے۔ جو جاپان، افغانستان، قطر، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، لبنان، لائبیریا، کینیا، سولومن جزائر، نائیجیریا، ریاستہائے متحدہ، جبوتی، موزمبیق، جزائر کیمین، سری لنکا، چین، برونائی، بنگلہ دیش، گوہانا، گوسہ اوربرونائی کو بھیجے گئے تھے۔
https://www.youtube.com/shorts/62FomSE1q3M
حکومتی اعداد و شمار اکائیوں اور قدر دونوں میں برآمدات میں مسلسل ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2022-23میں 94.7 ملی نروپے مالیت کی 100 گاڑیاں۔ اس سے اگلے سال 388.2 ملین روپے مالیت کے 107 یونٹس۔ جبکہ گذشتہ مالی سال 2024-25 میں 936.9 ملین روپے مالیت کے 227 یونٹس کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔
مزید برآں پچھلے تین مالی سالوں میں ہونے والی گاڑیوں کی برآمدات میںآٹھ مینوفیکچررز نے حصہ ڈالا جن میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ، سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ، ہونڈا اٹلس کارز، یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز، لکی موٹر کارپوریشن، ہنڈائی نشاط موٹرز، ماسٹر چنگن موٹرز، اور ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی شامل ہیں۔












