اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں مجوزہ رد و بدل سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر نئی قیمتوں کی منظوری دی گئی تو اگلے 12 ماہ کے دوران افراطِ زر میں تقریباً ایک فیصد سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو صارفین پر پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت وہ نظام ختم کیا جا رہا ہے جس میں صنعتی اور کمرشل صارفین پر گھریلو سبسڈی کا بوجھ ڈالا جاتا تھا۔
نئی حکمتِ عملی کے نتیجے میں صنعتوں کو بجلی کی قیمت میں 13 سے 15 فیصد تک ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 100 ارب روپے سے زائد سبسڈیز ختم کی جائیں گی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس تبدیلی کے بعد متوسط طبقے کے گھرانوں کے بجلی بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، اور کچھ صارفین کو موجودہ ادائیگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
خاص طور پر وہ صارفین جو ماہانہ 100 سے 300 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں نئے فکسڈ چارجز کی وجہ سے بھاری بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیپرا کے مطابق کم ترین استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بھی فکسڈ چارجز میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے سولر صارفین کو دی جانے والی قیمت کم کر دی گئی ہے، جس سے گرڈ صارفین پر اضافی بوجھ منتقل ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کے شعبے میں مالی خسارے کو کم کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر گھریلو صارفین پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا تو قوتِ خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مجموعی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان گزشتہ برسوں میں بلند مہنگائی کا سامنا کر چکا ہے، اور اگرچہ حالیہ مہینوں میں افراطِ زر میں کمی آئی ہے، لیکن توانائی نرخوں میں اضافہ دوبارہ قیمتوں کے استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے حتمی منظوری کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ بجلی کے نئے نرخ عوام اور صنعت دونوں کے لیے کس حد تک اثرات مرتب کرتے ہیں۔











