لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ نے جوہری توانائی کی صنعت میں ایک اہم تکنیکی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے جدید لوکل الیکٹران بیم ویلڈنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک مکمل سمال ماڈیولر ری ایکٹر کے پریشر ویسل کی ویلڈنگ 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مکمل کر لی۔
برطانوی شہر شیفیلڈ میں قائم سرکاری ادارے نے تقریباً 3 میٹر قطر اور 200 ملی میٹر موٹی اسٹیل کی دیواروں پر مشتمل پریشر ویسل کے پانچ حصوں کو صرف چار نیوکلیئر گریڈ ویلڈز کے ذریعے جوڑا۔ کمپنی کے مطابق یہی کام روایتی طریقہ کار سے عام طور پر تقریباً ایک سال میں مکمل ہوتا ہے۔
کمپنی کے ریسرچ، ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی ڈائریکٹر پروفیسر جیسس تلامانتیس سلوا کے مطابق ویلڈنگ کا پورا عمل "سو فیصد کامیاب اور ہر قسم کے نقص سے پاک” رہا۔
اس کامیابی کی بنیاد 2022 میں رکھی گئی تھی، جب انجینئروں نے 200 ملی میٹر موٹے اسٹیل کے دو حصوں کو تقریباً 10 میٹر طویل ایک ہی ویلڈ کے ذریعے صرف 140 منٹ میں جوڑ دیا تھا، جبکہ یہی کام روایتی طریقوں سے کئی ماہ لیتا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس جدید نظام میں طاقتور الیکٹران بیم اسٹیل کی پوری موٹائی میں ایک ہی مرحلے میں داخل ہو کر دونوں حصوں کو جوڑ دیتی ہے، جبکہ روایتی ویلڈنگ میں درجنوں تہیں بنا کر کام مکمل کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ پورے ڈھانچے کو ویکیوم چیمبر میں رکھنے کے بجائے صرف ویلڈنگ والے حصے کے گرد ویکیوم بنایا جاتا ہے، جس سے بڑے صنعتی آلات کی تیاری ممکن ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیوکلیئر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا؟ شمالی کوریا نے ایٹمی طاقت بڑھانے کا فیصلہ کر لیا
جوہری ری ایکٹر کا پریشر ویسل ری ایکٹر کا سب سے اہم حصہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی میں ایندھن اور کولنٹ موجود ہوتے ہیں اور اسے تقریباً 60 سال تک شدید دباؤ، بلند درجہ حرارت اور تابکاری برداشت کرنا ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شیفیلڈ کی تیار کردہ جدید ویلڈنگ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہوئی تو مستقبل میں نیوکلیئر ری ایکٹروں کی تیاری کا وقت نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے، لاگت میں کمی آئے گی اور برطانیہ عالمی جوہری صنعت میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکے گا۔












