لاہور( پاک ترک نیوز) پنجاب میں گریڈ ایک سے سولہ تک کی تینتالس ہزار سے زائد خالی اسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔
محکمہ خزانہ کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 30 ہزار ، محکمہ زراعت اور اس کے ذیلی شعبوں کی 11 ہزار 399، محکمہ ہاؤسنگ کی 727، محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی 561، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی 266 اور محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے مختلف ونگز کی 222 اسامیاں ختم کی گئی ہیں ۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 1 سے 16 تک کی 30 ہزار 391 خالی اسامیوں کو ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ۔
فیصلہ لاہور سمیت پنجاب بھر کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز پر لاگو ہوگا، محکمہ زراعت میں گریڈ 1 سے 15 تک کی 11 ہزار 399 اسامیاں بھی ختم کی گئی ہیں، جن میں بیلدار، چوکیدار، خاکروب، مالی اور لیبر سمیت نچلے درجے کے عملے کے ساتھ ساتھ جونیئر کلرک، فیلڈ اسسٹنٹ، ڈرائیور اور دیگر تکنیکی و انتظامی اسامیاں شامل ہیں۔
محکمہ ہاؤسنگ میں 727 خالی مستقل اسامیوں کا خاتمہ کیا گیا، اطلاق صوبہ بھر کی مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور ذیلی اداروں پر ہوگا، مختلف اضلاع اور اداروں میں اسسٹنٹ، آڈیٹر، سب انجینئر، کلرک، سروئیر اور دیگر کیڈرز کی اسامیاں بھی ختم کی گئی ہیں، اسی طرح محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے 5 ونگز میں 222، محکمہ زکوٰۃ و عشر میں 92 اور محکمہ لیبر میں 65 خالی اسامیوں کو ختم کیا گیا
حکومت نے یہ اقدام انتظامی اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں کمی کے پیش نظر کیا ہے۔ ہزازروں خالی اسامیوں پر کئی سالسے نہ تو بھرتی کی گئی اور نہ ہی ان کے فعال ہونے کا کوئی امکان موجود تھا۔فیصلے کا مقصد غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے حکومتی اقدام پر اظہار تشویش کیا ہے کہا ہے اس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو گا












