لاہور( پاک ترک نیوز) سرد موسم میں بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں اور زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم کرنا مختلف مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
کم درجۂ حرارت، دھوپ کی کمی اور کم حرکت جسم کے میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے، جس سے تھکن اور کاہلی بڑھ سکتی ہے۔
ورزش نہ کرنے سے جسم میں کیلوریز جلنے کا عمل کم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے لگتا ہے اور چربی جمع ہو سکتی ہے۔
جسمانی سرگرمی خون کی گردش بہتر بناتی ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھتی ہے۔ ورزش چھوڑنے سے نزلہ، زکام اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سردی میں حرکت کم ہونے سے جوڑ سخت ہو سکتے ہیں اور پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کی شکایت بڑھ سکتی ہے۔
ورزش کرنے سے خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں، جو ذہنی تناؤ کم کرتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی نہ ہونے سے موڈ خراب رہ سکتا ہے اور اداسی بڑھ سکتی ہے۔
باقاعدہ ورزش نیند کو بہتر بناتی ہے، جبکہ سستی اور غیر فعال طرزِ زندگی بے خوابی یا غیر معیاری نیند کا باعث بن سکتی ہے۔
ورزش نہ کرنے سے کولیسٹرول بڑھنے اور بلڈ پریشر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
حرکت کم ہونے سے جسم سست ہو جاتا ہے اور روزمرہ کاموں میں جلد تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔
سردیوں میں بھی ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی یا گھر کے اندر اسٹریچنگ جاری رکھنا صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسمانی طاقت برقرار رکھتی ہے بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہے۔












