نیویارک(پاک ترک نیوز)
غزہ میں جنگ بندی قیام امن کے لئے دو ریاستی کے حوالے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اہم اجلاس میں شریک او آئی سی اور عرب لیگ کے رکن ملکوں نے مشترکہ بیان جاری کر دیا ہے۔
اجلاس میںمیزبانوں کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ دوئم، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوگان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، مصری وزیر اعظم مصطفی کمال، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے شرکت کی۔
شرکا نے متفقہ طور پرغزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ناقابل برداشت انسانی المیہ‘ قرار دیا۔ وسیع پیمانے پرشہریوں کے جانی نقصان اور علاقائی عدم استحکام کو اجاگر کرتے ہوئے
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کرنے کےموقف کا اعادہ اور بے گھر افراد کی واپسی کی فوری ضرورت پر زوردیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کویقینی بنانے اور انسانی بنیادوں پر امدادی کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلیے غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا۔
رہنماوں نے امریکی صدر کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کا قائدانہ کردار نہایت اہم ہے۔
شرکا اجلاس نے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے واضح منصوبہ بندی اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی سپورٹ پر بھی زوردیا۔جبکہ فلسطین میں بین الاقوامی امداد اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ عرب ممالک اور او آئی سی کی تجویز کردہ حکمتِ عملی کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں گے جو ان منصوبوں کی کامیابی اور غزہ کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔












