لاہور( پاک ترک نیوز) اسرائیل میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ۔ نیتن یاہو اور گادی آئزن کوٹ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ حکومت سازی کیلئے تمام تر توجہ عرب سیاسی جماعتوں کی جانب مبذول ہے جو فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں ۔
اسرائیل میں کل 120نشستوں کیلئے انتخابات ہوئے جس میں نیتن یاہو کی جماعت اور اس کے اتحادیوں کو 53جبکہ اپوزیشن اتحاد گادی آئزن کوٹ اور اس کے اتحادیوں کی نشستوں کی تعداد 48ہے ۔
اسرائیل میں حکومت بنانے کیلئے 61نشستیں درکار ہیں ۔ عرب سیاسی جماعتیں اس میں 19نشستیں حاصل کرکے کلیدی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں موجود ہیں ۔ عرب سیاسی جماعتوں سے اپوزیشن احتاد کی حکومت سازی کیلئے گفت و شنید جاری ہے ۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 4نومبر کو حتمی سرکاری نتائج صدر ہرزو گ کو پیش کئے جانے ہیں جبکہ 10نومبر کو نئی پارلیمان کا حلف متوقع ہے۔
حکومت سازی کیلئےدونوں جماعتوں کے پاس کون کون سے آپشنز موجود ہیں اس پر نظر ڈالتے ہیں ۔
اگر دونوں جماعتوں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو صدر کی جانب سے زیادہ نشستوں والی جماعت کو حکومت بنانے کی آفر کی جائے گی ۔ نیتن یاہو کی جماعت اور اتحادیوں کو 28دن کا وقت ہوگا کہ وہ حکومت بنالیں اس میں 14روز کی توسیع بھی ممکن ہے ۔اگر وہ ناکام ہوئے تو صدر اپوزیشن اتحاد کی دعوت دیں گے کہ وہ حکومت سازی کیلئے آئیں ان کے پاس بھی 28روز کا وقت موجود ہو گا اور اس میں بھی 14روز کی توسیع ممکن ہے ۔
دوسری آپشن کے طور پر دونوں جماعتوں آدھی آدھی مدت کیلئے اقتدار میں آ سکتی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:سڑک کا معاملہ غلط رنگ اختیار کر گیا، اداروں کو بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا چاہیے، سعید غنی
تیسری آپشن کے طور پر اگر دونوں جماعتیں حکومت سازی میں ایک بار پھر ناکام رہتی ہیں تو اسرائیل میں صرف نیتن یاہو اور گادی آئزن کوٹ کے درمیان ون ٹو ون الیکشن بھی ہو سکتا ہے ۔جس میں زیاہ
ووٹ حاصل کرنے والا وزیراعظم منتخب ہوجائے گا ۔
اس کے بعد اسرائیل میں اگر اس کے بعد بھی حکومت سازی کا مسئلہ درپیش ہوا تو نیتن یاہو کی بطور کیئر ٹیکر حکومت میں رہی اور آئندہ انتخابات 2027کے آغاز میں ہو سکتے ہیں ۔
اگر اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھ سکا تو اسرائیل میں ایک بھر میدان سجنے کا امکان ہے ۔






