
از: سہیل شہریار
اسرائیلی فوج نے غزہ پر قبضے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے ۔ 7اکتوبر سے غزہ شہر کے قلب سے کاروائی شروع ہو گی۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے اتوار کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ جسے اب وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر اور گردونواح میں پناہ لئے ہوئے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔
منصوبے کے مطابق قبضے کی کارروائی مجموعی طور پر چار حصوں پر مشتمل ہوگی۔کاروائی ان حصوں پر مرکوز ہو گی جو ابھی مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے اور جو تقریباً 25 فی صد علاقے پر مشتمل ہیں۔
پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج زمینی افواج کو غزہ اور شمالی ضلعوں میں داخل کرے گی تاکہ انہیں باقی علاقے سے دوبارہ کاٹ دیا جائے۔ اس کے بعد مختلف سمتوں سے زمینی یلغار کی جائے گی۔
منصوبے میںکہاگیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ شہر کے قلب میں زمینی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ جو چار سے پانچ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ خیال رہے کہ غزہ شہر اور اس کے مغربی حصے میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=RHynQ5ffS1g
اس آپریشن میں کم از کم چار فوجی ڈویژنیں شامل ہوں گی۔ جن میں مستقل بریگیڈز اور متحرک کیے گئے اضافی فوجی دونوں شامل ہوں گے۔ ان بریگیڈز میں جولانی بریگیڈ، غفعاتی بریگیڈ (خصوصی پیادہ فوج)، پیراشوٹ بریگیڈ (شہری علاقوں میں لڑائی کی ماہر)، بکتر بند یونٹس (مریکیوا ٹینکوں سے لیس) اور انجینئرنگ یونٹس شامل ہیں، جو سرنگوں اور قلعہ بندیوں کو توڑنے میں مہارت رکھتی ہیں۔اسرائیلی فوج اس منصوبے کے لیے 80 ہزار سے 1 ایک لاکھ اضافی فوجیوں کو بھی طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے غزہ میں جنوبی کمان کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا اگلا مرحلہ جلد شروع ہو گا۔ جو ایک متوازن اور سوچی سمجھی فوجی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اسرائیلی فوج زمین، سمندر اور فضا … تینوں محاذوں پر اپنی پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے حماس کو سخت حملوں کا نشانہ بنائے گی۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے 86 فی صد سے زیادہ علاقے یا تو اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہیں یا وہاں جبری انخلا کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔جبکہ تا حال آزاد علاقہ ایک ساحلی پٹی پر مشتمل ہے جو شمال میں غزہ شہر سے لے کر جنوب میں خان یونس تک پھیلا ہوا ہے۔ اور یہاں غزہ کے لاکھوں بے گھر شہری خیموں، عارضی پناہ گاہوں اور چھوٹی رہائشی جگہوں میںمقیم ہیں۔












