واشنگٹن ( پاک ترک نیوز )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں کم از کم دو خفیہ فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے، جنہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا رہا۔رپورٹ کے مطابق یہ اڈے 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران بھی استعمال ہوئے اور موجودہ کشیدگی میں بھی ان کا کردار سامنے آیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ان میں سے ایک خفیہ اڈے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک عراقی چرواہا اتفاقیہ طور پر اس مقام تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چرواہے نے وہاں فوجیوں، ہیلی کاپٹروں اور ایک عارضی رن وے کو دیکھا تھا۔چرواہے نے مبینہ طور پر عراقی فوجی حکام کو اس بارے میں اطلاع دی، جس کے بعد عراقی فوج نے علاقے میں ایک جاسوسی ٹیم بھیجی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس ٹیم پر حملہ کر دیا گیا جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے، جبکہ فوجی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراقی حکام نے ابتدا میں صرف ’غیر ملکی فورسز‘ کے حملے کی بات کی تھی، لیکن بعد میں عراقی فوجی حکام نے امریکی فوج سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ امریکی فورسز نہیں تھیں، جس کے بعد شبہ اسرائیل پر گیا۔












