باکو(پاک ترک نیوز)آذربائیجان اور ترکیہ کے درمیان طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب سے متعلق پابندیوں اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر اختلافات نے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
دونوں ممالک مشترکہ زبان، ثقافت اور تاریخی روابط کے باعث قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے تعلقات کی عکاسی مشہور نعرے ’’ایک قوم، دو ریاستیں‘‘ سے بھی ہوتی ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اس مضبوط تعلق کی آزمائش شروع کر دی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کے چیف مشیر اوکتائے سارال نے آذربائیجان میں اسکولوں کے یونیفارم سے متعلق قواعد میں تبدیلی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب ایمان کا تقاضا ہے اور کسی نظریے کو تعلیم کے حق پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے آذربائیجان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔
اس بیان کے جواب میں آذربائیجان کی حکمران جماعت نیو آذربائیجان پارٹی نے ترک حکام کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ جماعت نے کہا کہ آذربائیجان کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور اس کے ترکیے کے ساتھ تعلقات کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی ایک اہم وجہ اسرائیل کے ساتھ آذربائیجان کے بڑھتے تعلقات بھی ہیں۔ سنہ 2020 میں آرمینیا کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان کو بغیر پائلٹ طیاروں سمیت فوجی سازوسامان فراہم کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید نمایاں ہوا۔
اس کے برعکس ترکیے کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ ترک صدر اردوان غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔
ترکیے کے ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں نے آذربائیجان میں حجاب سے متعلق قواعد کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش سے بھی جوڑا، تاہم آذربائیجان کی حکمران جماعت نے اس تشریح کو مسترد کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آذربائیجان اب علاقائی سیاست میں زیادہ خودمختار اور عملی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ باکو اپنے اتحادی ترکیے کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بیرونی دباؤ کے سامنے اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے باوجود دونوں ممالک کے لیے تعلقات میں شدید بگاڑ سے بچنا اہم ہے۔ توانائی کے شعبے میں تعاون، وسطی ایشیا تک رسائی اور یورپ و ایشیا کے درمیان تجارتی راستوں میں ترکیے کا کردار دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا عدالتی حکم کے باوجود واشنگٹن میں گالف کورس کی تعمیرِ نو شروع کرنے کا اعلان
ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے باکو میں علاقائی اجلاس کے دوران دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود یہ رشتہ قائم ہے۔ حکمران جماعت کے ایک سینئر ترک رہنما نے بھی اختلافات کو باہمی طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔












