لاہور( پاک ترک نیوز) کہا جاتا ہے کہ اسلامی بینکاری سود سے پاک ہے اور شریعت کے اصولوں کے مطابق چلتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلامی بینکاری روایتی بینکاری سے مختلف ہے؟
دنیا بھر میں اسلامی بینکاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں ایسے بینک موجود ہیں جو خود کو شریعت کے مطابق مالیاتی نظام قرار دیتے ہیں۔
اسلامی بینکاری میں عام طور پر مشارکہ، مضاربہ، مرابحہ اور اجارہ جیسے معاہدوں کے ذریعے کاروبار کیا جاتا ہے۔ان طریقوں میں بینک اور صارف کے درمیان شراکت داری یا تجارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔۔اسلامی بینک کوئی چیز خرید کر گاہک کو کرائے پر دیتا ہے ،جیسے گھر یا گاڑی ،بعد میں گاہک قسطوں یا کرائے کی صورت میں رقم ادا کرتا ہے۔
روایتی بینکاری نظام میں اصل بنیاد سود پر ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے پیسے بینک میں جمع کرواتا ہے تو بینک اس رقم کو مختلف لوگوں اور کمپنیوں کو قرض کی صورت میں دیتا ہے اور اس پر سود وصول کرتا ہے۔قرض لینے والا شخص یا ادارہ اس رقم پر ایک مقررہ شرح کے مطابق سود ادا کرتا ہے۔بینک اس سود میں سے ایک حصہ اپنے اخراجات اور منافع کے طور پر رکھتا ہے اور باقی حصہ اپنے صارفین کو منافع یا انٹرسٹ کی صورت میں دے دیتا ہے۔
اگر آپ نے بینک میں 1 لاکھ روپے جمع کروائے اور بینک نے اس رقم کو کسی کاروبار کو قرض دے کر 12٪ سود لیا، تو بینک اس میں سے مثلاً 6٪ یا 7٪ آپ کو دے سکتا ہے اور باقی خود رکھ لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی بینکاری کی بنیاد سود یعنی ربا پر ہوتی ہے، جسے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہےجبکہ اسلامی بینکاری میں سود کے بجائے تجارت، شراکت داری اور منافع و نقصان کی بنیاد پر لین دین کیا جاتا ہے۔
تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اسلامی بینکاری اور روایتی بینکاری کے طریقہ کار میں بہت زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ان کے مطابق کئی معاملات میں صرف اصطلاحات بدل دی جاتی ہیں جبکہ ڈھانچہ تقریباً وہی رہتا ہے۔
دوسری جانب اسلامی مالیات کے ماہرین اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کی نگرانی شریعت بورڈ کرتے ہیں اور اس میں سود کو مکمل طور پر ممنوع رکھا جاتا ہے۔












