اسلام آباد(پاک ترک نیوز)وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے، اگر معاملات اس وقت حل ہو جاتے تو شاید آج صورت حال مختلف ہوتی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس اور ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات شروع کیے گئے تھے اور حکومت کو امید تھی کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ مذاکرات کے دوران چوتھا مسودہ تیار ہوا تھا، جس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے لی جانی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی اس کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی سے متعلق یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات میں ایک قدم آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں ملاقات کے لیے وقت کی حد اور مسئلے کے حل کا ایک واضح طریقہ موجود تھا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کی کوشش تھی کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف ایک مؤقف اختیار کرے۔ خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا ترجیح ہے اور ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی ملکوں کی سائبر سیکورٹی کونسل قائم کر دی گئی
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کی کبھی مذمت نہیں کی اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر تعاون سے انکار کیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے تو اس کے 40 ارکان استعفے نہیں دیں گے۔






