تہران ( پاک ترک نیوز)آبنائے ہرمز میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں امریکہ کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی آبدوزوں کی موجودگی نے امریکی بحری بیڑوں کو محتاط انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا، جس کے بعد برطانیہ نے بھی اپنی آبدوزیں اس خطے کی جانب روانہ کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طویل ہو گیا تو ایٹمی آبدوزیں بھی خطرے میں آ سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، جو زیرِ آب آپریشنز کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خود پسپائی اختیار کرنے کے بعد اتحادیوں سے مدد طلب کی، اور جاپان و برطانیہ پر دباؤ ڈالا۔ برطانیہ نے ڈیگو گارشیا کا اسٹریٹیجک اڈہ فراہم کیا، جہاں ٹوماہاک میزائلوں سے لیس آبدوزیں تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں—یہ ٹیکنالوجی امریکہ کی جدید عسکری صلاحیتوں میں شمار ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سمندر کے اندرونی راستوں اور ممکنہ بارودی سرنگوں کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات ایران کے پاس ہیں، جو اسے ایک اہم اسٹریٹیجک برتری فراہم کرتی ہیں۔
ایک ایرانی کمانڈر کے مطابق ایران مسلسل نئے ہتھیار متعارف کرا رہا ہے، جن میں خیبر شکن، قادر اور نور جیسے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں کی خاص بات دورانِ پرواز راستہ بدلنے کی صلاحیت ہے، جس کی وجہ سے انہیں روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک میزائل کو تباہ کرنے کے لیے متعدد انٹرسیپٹرز درکار ہوتے ہیں، جس سے دفاعی اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ہدف کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا پھر بھی مشکل رہتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایران نے بڑی حد تک مقامی سطح پر تیار کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی آبدوزیں فی الحال منظرِ عام پر نہیں آئیں، لیکن ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر امریکی طیارہ بردار جہاز “ابراہام لنکن” اس وقت اس علاقے میں موجود ہوتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، تاہم وہ پہلے ہی پیچھے ہٹ چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے برطانیہ کو اس تنازع میں مزید شامل کیا، جس کے بعد برطانیہ کی ایٹمی آبدوزیں آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہی ہیں—اور یوں وہ خود بھی ایک حساس صورتحال کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
ایرانی آبدوزیں جدید میزائل سسٹمز سے لیس بتائی جاتی ہیں، جو سمندر میں پوشیدہ رہ کر بڑے بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر برطانیہ کی جانب سے کوئی جارحانہ اقدام کیا گیا تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایران نے تاحال ڈیگو گارشیا کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم حالات بگڑنے کی صورت میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی میزائلوں کی رینج ہزاروں کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث یورپ بھی ممکنہ خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ مذاکرات کی بات کر رہا ہے، تاہم اسرائیل کی پالیسی اس راہ میں رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ نے اسی پالیسی کو جاری رکھا تو اس کے اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔












