تہران ( پاک ترک نیوز) کیا واقعی ایران کمزور ہو چکا ہے؟ یا دنیا کو دھوکے میں رکھا جا رہا ہے؟ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے ایک ایسا راز فاش کیا ہے جس نے ساری کہانی بدل دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ وہ میزائل جو زمین کے نیچے خفیہ اسٹوریج میں چھپائے گئے ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے سرگرم ہے۔ امریکی جنگ بندی کا مقصد بظاہر امن ہے لیکن پس پردہ ایک نیا کھیل جاری ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کا میزائل پروگرام تباہ ہو چکا ہے۔ مگر خفیہ رپورٹس کچھ اور کہہ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ کئی لانچرز تباہ ہوئے، لیکن بہت سے اب بھی مرمت ہو سکتے ہیں یا زمین کے نیچے سے دوبارہ نکالے جا سکتے ہیں۔ سوچیں۔۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل ہوں، کیا وہ واقعی کمزور ہو سکتا ہے؟
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 1000 ہزار سے زائد درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں، جبکہ کروز میزائل اور محدود ڈرونز بھی اس کے ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو ایران روس سے جدید سسٹمز حاصل کر کے اپنی طاقت دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔
اُدھر امریکی جنرل ڈین کین کہتے ہیں کہ ہزاروں بم گرا کر ایران کے دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔ مگر سوال اب بھی باقی ہے۔ کیا ایران واقعی ختم ہو چکا ہے؟ یا یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ فیصلہ آنے والی جنگ کرے گی۔












