جکارتہ ( پاک ترک نیوز) انڈونیشیا مسلم دنیا میں پہلا بحری بیڑا رکھنے والا ملک بن گیا
تفصیلات کےمطابق انڈونیشیا کا پہلا ایئرکرافٹ کیریئر اٹلی سے انڈونیشیا کے لیے روانہ ہوگیا۔ سابق اطالوی بحریہ کا جنگی جہاز جوزپے گیری بالڈی 20 روز سے زائد کا سفر طے کرکے ستمبر کے وسط میں انڈونیشیا پہنچے گا، جہاں اسے باقاعدہ طور پر انڈونیشین بحریہ میں شامل کرکے کے آر آئی گاجہ مادا کا نام دیا جائے گا۔انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد علی کے مطابق جہاز کے 15 سے 20 ستمبر کے درمیان انڈونیشیا پہنچنے کا امکان ہے۔ سفر کے دوران جہاز اطالوی پرچم تلے ہی روانہ رہے گا اور اطالوی بحریہ کے جنگی جہاز بھی اس کے ہمراہ ہوں گے۔ جہاز سوئز کینال اور بحیرۂ احمر سے گزر کر انڈونیشیا پہنچے گا۔
تقریباً 13 ہزار 850 ٹن وزن رکھنے والا جوزپے گیری بالڈی 1985 میں اطالوی بحریہ میں شامل ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اسے ہیلی کاپٹر کروزر کے طور پر استعمال کیا گیا، بعد میں اسے ایئرکرافٹ کیریئر کے طور پر تبدیل کیا گیا اور اس پر اے وی-8 بی ہیریئر جنگی طیارے بھی آپریٹ کیے گئے۔انڈونیشیا نے یہ جہاز روایتی تجارتی خریداری کے بجائے حکومتی سطح پر گرانٹ کے انتظام کے تحت حاصل کیا ہے۔ جکارتہ کا منصوبہ ہے کہ اسے بنیادی طور پر ہیلی کاپٹروں کے لیے متحرک بحری ہوائی اڈے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس پر بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے ہیلی کاپٹر آپریٹ کرسکیں گے۔
کے آر آئی گاجہ مادا کو سمندری نگرانی، نقل و حمل، رسد، سرچ اینڈ ریسکیو، قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں اور ممکنہ طور پر آبدوز شکن آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ ہزاروں جزائر پر مشتمل انڈونیشیا کے لیے یہ صلاحیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔انڈونیشین بحریہ نے جہاز کی آمد سے قبل پائلٹس اور ڈیک عملے کی تربیت کے لیے جوآندا نیول ایئر اسٹیشن پر طیارہ بردار بحری جہاز کے ڈیک کا نقشہ بھی تیار کیا ہے تاکہ عملے کو جہاز پر طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی نقل و حرکت سے متعلق تربیت دی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے طاقتور ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں کون سب سے آگے؟
انڈونیشیا مستقبل میں جہاز کو ڈرونز کے لیے بھی استعمال کرنے پر غور کرسکتا ہے۔ انڈونیشیا پہلے ہی ترکی کے ساختہ بیرقدار ٹی بی تھری ڈرونز حاصل کرچکا ہے، جو بحری جہازوں کے ڈیک سے آپریشن کی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق انڈونیشیا کے لیے یہ پیش رفت خطے میں اس کی بحری صلاحیت میں اہم اضافہ ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین کے قریب انڈونیشیا کی اسٹریٹجک پوزیشن اور چین کے ساتھ سمندری حدود کے تنازعات کے تناظر میں نیا بحری جہاز نگرانی اور بحری سلامتی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔
انڈونیشین بحریہ کے مطابق جہاز کے لیے لامپونگ میں نیا اڈہ بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو جہاز کی آمد کے وقت مکمل ہونے کی توقع ہے۔ 25 ستمبر کو پرچم کشائی اور کمیشننگ کی تقریب کے بعد جوزپے گیری بالڈی باضابطہ طور پر انڈونیشیا کا جنگی جہاز بن جائے گا اور اسے کے آر آئی گاجہ مادا کا نام دیا جائے گا۔انڈونیشیا کے پہلے ایئرکرافٹ کیریئر کو اکتوبر میں انڈونیشین نیشنل ڈیفنس فورسز کی 81ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شامل کیا جائے گا۔












