لاہور( پاک ترک نیوز) ہم دن کو سورج کی روشنی میں دیکھنے کے عادی ہیں، لیکن ذرا تصور کیجیے کہ دوپہر کے وقت اچانک اندھیرا چھا جائے، آسمان پر ستارے نظر آنے لگیں اور ایسا محسوس ہو جیسے رات اتر آئی ہو۔
اگست 2026 میں دنیا کے مختلف حصے ایک ایسے ہی نادر فلکیاتی منظر کے گواہ بننے جا رہے ہیں، جب مکمل سورج گہن کے باعث چند لمحوں کے لیے دن رات جیسا منظر پیش کرے گا۔
12 اگست کو چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے گا، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں سورج مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ اس دوران آسمان تاریک ہو جائے گا، درجہ حرارت میں کمی محسوس ہو سکتی ہے اور کئی مقامات پر ستارے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔
ماہرین فلکیات کے مطابق مکمل سورج گہن کا مرکزی راستہ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین، روس اور وسطی ایشیا کے بعض علاقوں سے گزرے گا۔ ان مقامات پر موجود افراد چند منٹوں کے لیے سورج کو مکمل طور پر چھپتے دیکھ سکیں گے، جبکہ سورج کے گرد ایک دلکش روشن ہالہ بھی نظر آئے گا۔
دوسری جانب یورپ، شمالی افریقا اور ایشیا کے وسیع علاقوں میں جزوی سورج گہن دیکھا جا سکے گا، جہاں سورج کا صرف کچھ حصہ چاند کی اوٹ میں آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل رات بھر چارج پر لگانا خطرناک یا محفوظ؟
اس نادر فلکیاتی مظہر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اور فلکیات کے شوقین مختلف مقامات کا رخ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ اسپین اس بار سورج گہن کے مشاہدے کے لیے خاص توجہ کا مرکز بننے جا رہا ہے۔
ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سورج گہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنے کے بجائے خصوصی حفاظتی چشموں کا استعمال کریں تاکہ بینائی کو نقصان سے بچایا جا سکے۔








