
از: سہیل شہریار
حماس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی غزہ میں سیز فائر تجویز قبول کرنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر نے اسرائیل کوفوری طور پر غزہ میںزمینی و فضائی حملے روکنے کا کہہ دیا ہے۔جبکہ اسلامی دنیا خصوصاً اقوام متحدہ کے 80ویں اجلاس کے دوران ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے آٹھ بڑے اسلامی ملکوں نےامن کی جانب اس پیش رفت پر تشکر کا اظہار کیاہے ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ حماس کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے تیار ہے۔ لہٰذا اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کر دینی چاہیے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ رہائی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی فوجی کارروائی سے انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم یہ معاملہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں طویل المدتی امن کے قیام سے جڑا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے اپنےپیغام میں قطر، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، پاکستان اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب ممالک جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے متحد ہیں اور ہم امن کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=lL4Mp3OYbV0&t=14s
ادھرحماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر اپنا جواب ثالثوں کے پاس جمع کرا دیا ہے۔ اس ضمن میں اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو بڑی حد تک قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے تحت امن معاہدے کے لئے تیار ہے۔البتہ اس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کے جلد اور مکمل انخلا کو یقینی بنانا ہو گا۔حماس کے بیان کے مطابق تنظیم غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد اور غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ادارے کے حوالے کرنے پر بھی رضامند ہے۔ جس کی تشکیل قومی اتفاقِ رائے اور عرب و اسلامی ممالک کی حمایت کی بنیاد پر کی جائے گی۔
کہا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی یر غمالیوں کو رہا کرنے کو تیار ہیں۔حماس نے مزید کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ثالثی ممالک کے ذریعے اس معاہدے پر بات چیت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
حماس کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ منصوبے میں غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متعلق دیگر امور کا فیصلہ ایک جامع فلسطینی قومی فریم ورک کے تحت ہونا چاہیے۔جس میں تمام فلسطینی دھڑوں کے ساتھ حماس کو بھی شامل کیا جائے ۔
حماس کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز میں غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متعلق جو دیگر نکات شامل ہیں وہ ایک مشترکہ قومی مؤقف، بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےحماس کو غزہ جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیت فارم پر جاری ہونے والے پیغام میں کہاتھا کہ حماس کے پاس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اتوار کی شام 6 بجے تک کا وقت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حماس کے پاس معاہدہ کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ معاہدے پر دیگر ممالک دستخط کرچکے ہیں۔ اور اگر حماس معاہدہ نہیں کرسکی تو اس کو سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے جبکہ معاہدہ کرنے سے حماس کے جنگجوؤں کی جان بچ جائے گی۔
مزید براںفلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی جنگ ختم ہونے کے ایک سال کے اندر صدارتی اور عام انتخابات کرائے جائیں گے۔اپنے بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم تین ماہ کے اندر ایک عارضی آئین تیار کریں گے۔ تاکہ انتظامی ڈھانچے کو فلسطینی اتھارٹی سے ریاست میں منتقل کیا جا سکے۔
صدرعباس نے مزید کہا کہ ہم ایسی کسی بھی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے جو دو ریاستی حل کی پابندی نہ کرے۔فلسطینی صدر نے موجودہ مرحلے کو فیصلہ کن اور نازک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔
جبکہ تازہ ترین پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اپنی مسلح افواج کو غزہ میں فوجی کاروائیاں محدود کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا ہے کہ حماس کے ردِعمل کی روشنی میں اسرائیل تمام مغویوں کی رہائی کے لیے ٹرمپ منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے۔












