نیویارک : (پاک ترک نیوز)دنیا کی مقبول ترین ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن ایک ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
جمعے کی صبح بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد کمی دیکھی گئی اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھ بجے 62 ہزار 900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہی تھی۔
یہ گراوٹ گزشتہ ہفتے کے آخر میں شروع ہونے والے نقصان کے تسلسل کا حصہ ہے، جب بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی تھی۔
تازہ کمی کے بعد بٹ کوائن رواں سال کے آغاز سے اب تک اپنی مجموعی قدر کا تقریباً ایک تہائی کھو چکی ہے۔
بٹ کوائن میں تیزی اس وقت دیکھی گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد یہ توقعات پیدا ہوئیں کہ واشنگٹن کرپٹو کے حق میں نرم ضابطہ کار اپنائے گا۔
انہی امیدوں کے باعث دسمبر 2024 میں بٹ کوائن پہلی بار ایک لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچی تھی۔تاہم اکتوبر میں ایک لاکھ 27 ہزار ڈالر سے زائد کی تاریخی بلند ترین سطح چھونے کے بعد سے ڈیجیٹل اثاثہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات جغرافیائی اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، یورپی اتحادیوں اور کینیڈا سے گرین لینڈ کے معاملے پر کشیدگی ہے، اور جنوبی کوریا پر زیادہ ٹیرف لگانے کی بات ہو رہی ہے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت نے اسٹاک مارکیٹس میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔کرپٹو مارکیٹ میں اس نوعیت کے بحران ماضی میں بھی آتے رہے ہیں۔ 2014، 2018، اور پھر 2021 اور 2022 میں بڑے کریش کے بعد بِٹ کوائن نے بالآخر واپسی کی۔ اسی لیے بعض سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ یہ مندی بھی مستقل نہیں اور وقت کے ساتھ حالات بدل سکتے ہیں۔








