
از:سہیل شہریار
اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاسوں کے انعقاد کی 30سالہ تاریخ میں پہلی بار آئندہ سال منعقد ہونے والے کوپ۔31کی میزبانی ترکیہ اور آسٹریلیامشترکہ طور پر کریں گے ۔
کوپ۔31 اگلے سال کے آخر میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ترکیہ کےتاریخی شہر انطالیہ میں منعقد ہوگا۔ جہاں ترکیہ سے ایک نمائندہ باضابطہ طور پر "صدر” منتخب کیا جائے گا۔ جبکہ آسٹریلیا مذاکرات کی قیادت کے لیے نائب صدر کا تقرر کرے گا۔
عالمی سطح پر سربراہی اجلاسوں کے انعقاد کے لئےمیزبانی کی اس تقسیم کے انتظام کو "پولیس” کہا جاتا ہے۔ یہ سفارتی تناؤ سے بچنے کے لیے وضع کردہ ایک غیر معمولی طریقہ کار ہے۔اور اس کے تحت ہونے ولال معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لیے نئے اتحادوں کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ معاہدہ تقریباً ایک سال کی بات چیت کے بعد طے پایا۔ کیونکہ دونوں ممالک نے میزبانی کے لیے اپنی بولی واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ترکیہ اس سے قبل کوپ۔ 26 کی میزبانی کے لیے اپنی بولی سے دستبردار ہو چکا ہے جو بعد ازاں 2021 میں گلاسگو میں منعقد ہوا۔ اس بار ترکیہ نے ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پل کے طور پر ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کرنے کے لیے میزبان کے طور پر خدمات انجام دینے کا عزم کیا تھا۔اس کے برعکس آسٹریلیا کا مقصد اس ایونٹ میں اپنے کردار کے ذریعے خطرے سے دوچار بحرالکاہل کی ریاستوں کے خدشات کو اجاگر کرنا تھا۔
میزبان کے طور پر ترکیہ کا کردار نہ صرف آسٹریلیا کے ساتھ منفرد انتظامات کی وجہ سے بلکہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن میں اس کی منفرد حیثیت کی وجہ سے بھی جداگانہ ہے۔ ترکیہ نے 2016 میں پیرس معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن اس کی توثیق میں پانچ سال تک تاخیر ہوئی۔کیونکہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے بانی رکن کے طور پر ترکیہ کو بھی اس 2016کے معاہدے میں ایک صنعتی ملک کے طور پر شمار کیا گیا تھا جن پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی تھی کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ترقی پزیر اور کم ترقی یافتہ ملکوں کو مالی امداد فراہم کریں گے۔ مگر ترکیہ نے اس سے اختلاف کیا تھا۔نتیجتاً پانچ سال جاری رہنے والے مزاکرات کے بعد2021 میں، ترکیہ نے آخر کار او ای سی ڈی ممالک کی فہرست میں واحد ترقی پذیر ملک کے طور پر ایک منفرد پہچان حاصل کر لی اور اسے بالآخر اس معاہدے کی توثیق کرنے کی اجازت دی گئی۔












