منیلا:(پاک ترک نیوز)فلپائن میں 350 سے زائد افراد کو لے جانے والی ایک مسافر فیری کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ درجنوں تاحال لاپتا ہیں۔
فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق اب تک 316 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ پیر کی رات آدھی رات کے بعد پیش آیا، جب مسافر بردار جہاز ایم وی ٹرشا کرسٹن 3 جنوبی فلپائن کے شہر زمبوانگا سے جزیرہ جولو کی جانب روانہ تھا۔
یہ فیری صوبہ باسیلان کے ساحل کے قریب الٹ گئی۔فلپائن کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ جہاز میں ریکارڈ کے مطابق 332 مسافر اور 27 عملے کے افراد سوار تھے۔ جہاز نے پیر کی صبح ایک بج کر پچاس منٹ پر ہنگامی سگنل جاری کیا، جو روانگی کے تقریباً چار گھنٹے بعد تھا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق فیری اچھی موسمی صورتحال میں باسیلان کے گاؤں بالوک بالوک سے تقریباً ایک ناٹیکل میل کے فاصلے پر ڈوبی، جہاں ابتدائی طور پر کئی زندہ بچ جانے والوں کو منتقل کیا گیا۔
سدرن منڈاناؤ ڈسٹرکٹ کے کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک 316 افراد کو بچا لیا گیا ہے، 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 28 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی کارروائی کے لیے کوسٹ گارڈ کا ایک طیارہ روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ نیوی اور ایئر فورس کے وسائل بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔باسیلان کے ایمرجنسی حکام کے مطابق جن زخمیوں کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں دارالحکومت اسابیلا کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایک میڈک رونالین پیریز نے بتایا کہ مریضوں کی بڑی تعداد کے باعث عملے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔باسیلان کے گورنر مجیب حاتمان نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں جن میں زندہ بچ جانے والوں کو بندرگاہ پر اتارا جاتا دیکھا جا سکتا ہے، بعض افراد کمبلوں میں لپٹے ہوئے تھے جبکہ کچھ کو اسٹریچرز پر منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ روانگی سے قبل جہاز کو کلیئر کیا گیا تھا اور اوور لوڈنگ کے شواہد نہیں ملے۔
واضح رہے کہ فلپائن میں سمندری حادثات عام ہیں، جن کی بڑی وجوہات خراب جہاز، حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کی کمی اور بعض علاقوں میں اوور لوڈنگ ہیں۔ 1987 میں ڈونا پاز فیری حادثہ دنیا کا بدترین سمندری حادثہ قرار دیا جاتا ہے، جس میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔






