لاہور( پاک ترک نیوز) ہر پٹرول پمپ پر الگ ریٹ؟ عوام کے لیے نئی مشکل کھڑی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے فیصلے پر خدشات جنم لینے لگے عوام کا کہنا ہے کہ اگر چکن، سبزی، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی طرح پٹرول کی قیمتوں پر بھی مؤثر عمل درآمد نہ ہوا تو ہر پٹرول پمپ اپنی مرضی کا ریٹ وصول کرے گا۔ کیا روزانہ قیمتوں کا نظام شفاف ہوگا یا عوام کے لیے نئی آزمائش؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے بعد شہریوں میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مؤثر نگرانی نہ کر سکی تو مختلف پٹرول پمپ مختلف قیمتیں وصول کرنا شروع کر دیں گے، جس سے صارفین مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔
شہریوں کے مطابق پہلے ہی روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی سرکاری قیمتیں مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے منافع خور اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔
مارکیٹوں میں چکن، سبزی، پھل اور دیگر اشیائے خورونوش کی سرکاری قیمتیں روزانہ جاری کی جاتی ہیں، لیکن کئی مقامات پر دکاندار ان نرخوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ عوام کو خدشہ ہے کہ اگر پٹرول پمپوں کی بھی مؤثر مانیٹرنگ نہ ہوئی تو یہی صورتحال پٹرول کی فروخت میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔
ایسی صورت میں ایک ہی شہر میں مختلف پٹرول پمپوں پر مختلف قیمتیں وصول ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جس سے صارفین میں بے چینی اور شکایات بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے پُرزور احتجاج پر وزیر تعلیم مستعفی
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتیں بدلنے سے پہلے ہی الجھن پیدا ہوگی، اگر اس پر سخت نگرانی نہ ہوئی تو پٹرول پمپ مالکان اپنی سہولت کے مطابق نرخ تبدیل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں صارفین کے لیے سرکاری قیمت کی تصدیق کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں کا نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ، فوری چیکنگ، بھاری جرمانے اور مؤثر شکایتی نظام بھی موجود ہو۔
شہریوں کا کہنا ہے گر ہر روز قیمت بدلے گی تو ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ اصل ریٹ کیا ہے؟”چکن کی سرکاری قیمت پر عمل نہیں ہوتا، کہیں پٹرول کے ساتھ بھی یہی نہ ہو جائے۔
صارفین کا مطالبہ ہے کہ حکومت روزانہ قیمتوں کے ساتھ ساتھ تمام پٹرول پمپوں پر واضح ڈیجیٹل ریٹ بورڈ آویزاں کرنے، اچانک انسپکشن، اور خلاف ورزی پر فوری کارروائی کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی قسم کی من مانی کی گنجائش نہ رہے۔
پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ تعین شفافیت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور مشکلات کا سبب بھی۔ اصل امتحان قیمتیں مقرر کرنے کا نہیں بلکہ ان پر یکساں عمل درآمد کرانے کا ہے۔ اگر نگرانی مؤثر نہ ہوئی تو عوام کے خدشات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں اور ہر پٹرول پمپ پر الگ ریٹ وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں سب سے زیادہ بوجھ ایک بار پھر عام شہری ہی اٹھائے گا۔












