اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں ڈی جی حج کی مسلسل عدم حاضری پر ارکان شدید برہم ہوگئے، کمیٹی نے ڈی جی حج کے تین مرتبہ بلانے کے باوجود اجلاس میں پیش نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ ڈی جی حج کو بار بار طلب کرنے کے باوجود ان کا اجلاس میں نہ آنا ہمارے لیے باعثِ شرم اور تشویش کی بات ہے۔قائم مقام چیئرمین کمیٹی حافظ عبدالکریم نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈی جی حج اتنے طاقتور ہیں کہ تین مرتبہ بلانے کے باوجود کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہورہے؟
کمیٹی نے ڈی جی حج کی عدم حاضری کے معاملے سے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کردی۔اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ ڈی جی حج جدہ اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے باوجود عہدہ کیوں نہیں چھوڑ رہے۔سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے کمیٹی کو بتایا کہ نئے ڈی جی حج کے انتخاب کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو کیے گئے تھے، جن کے بعد تین امیدواروں کے نام وزیراعظم کو بھجوائے گئے، تاہم وزیراعظم نے تینوں نام مسترد کردیے اور نئے ڈی جی کے انتخاب کے لیے دوبارہ عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔سیکرٹری مذہبی امور کے مطابق نئے ڈی جی حج کے انتخاب کے لیے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویو کے عمل میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا جے ٹین سی ای جنگی طیارہ انڈونیشیا پہنچنے کو تیار، پاکستان کے بعد تیسرا غیر ملکی خریدار بن جائے گا
قائم مقام چیئرمین کمیٹی حافظ عبدالکریم نے سوال کیا کہ 36 امیدواروں میں سے کیا ایک بھی موزوں امیدوار نہیں ملا؟وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بتایا کہ وزارت نے تین امیدواروں کا انتخاب کیا تھا، تاہم وزیراعظم نے تینوں نام مسترد کردیے۔اجلاس میں ڈی جی حج کی جانب سے ویڈیو رابطے کے ذریعے شرکت کی تجویز بھی سامنے آئی، تاہم کمیٹی ارکان نے جدہ سے ویڈیو رابطے پر شرکت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی حج کو خود اجلاس میں پیش ہونا چاہیے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈی جی حج اب بھی اجلاس میں نہیں آتے تو سمن جاری کرکے انہیں گرفتار کرکے لایا جائے۔












