لاہور( پاک ترک نیوز) ٹریفک جام سے تنگ آ گئے ہیں؟ گھنٹوں کا سفر اب صرف چند منٹوں میں مکمل ہوگا۔ سائنس نے ایک اور حیران کن کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ دنیا بھر میں اڑنے والی الیکٹرک ٹیکسیوں کا خواب حقیقت بننے کے قریب پہنچ گیا ۔ وہ وقت دور نہیں جب آپ موبائل ایپ سے ٹیکسی بک کریں گے اور چند لمحوں بعد وہ آپ کے سامنے سڑک پر نہیں بلکہ آسمان سے اترتی دکھائی دے گی۔
امریکا کی معروف فضائی کمپنی جوبی ایوی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تیار کردہ الیکٹرک فضائی ٹیکسی جلد عوامی استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔کمپنی کے مطابق نیویارک کے مصروف علاقے مین ہیٹن سے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ تک، جہاں سڑک کے راستے 45 منٹ سے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں، اب یہی سفر صرف دس منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کیا جا سکے گا۔
یہ جدید ٹیکسی دراصل الیکٹرک عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ طیارہ ہے، جو ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز اور ڈرون کی خصوصیات کو ایک ساتھ سمیٹے ہوئے ہے۔اس میں چھ طاقتور الیکٹرک روٹر نصب ہیں، جو اسے سیدھا اوپر اٹھاتے ہیں، پھر یہی روٹر اپنا زاویہ تبدیل کرکے اسے ہوائی جہاز کی طرح آگے بڑھاتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ فضائی ٹیکسی چار مسافروں اور ایک پائلٹ کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ تقریباً 100 میل تک سفر کر سکتی ہے اور تقریباً ایک ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرے گی، جبکہ اس کا شور عام ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں نہایت کم ہوگا۔
امریکی حکومت نے بھی اس منصوبے کی آزمائش کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ ، جنگ کا نقشہ بدلنے والی جدید انفراریڈ ٹیکنالوجی تیار
رواں موسم گرما میں نیویارک، نیو جرسی، ٹیکساس اور فلوریڈا میں سرکاری نگرانی میں آزمائشی پروازیں شروع ہوں گی۔
ابتدائی مرحلے میں یہ فضائی ٹیکسیاں سامان کی ترسیل کریں گی، جبکہ بعد ازاں رضاکار مسافروں کو بغیر کرائے آزمائشی پروازیں کرائی جائیں گی۔
اس منصوبے میں دنیا کی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں ،جوبی ایوی ایشن کو ٹویوٹا، اوبر اور ڈیلٹا ایئر لائنز کی مالی اور تکنیکی معاونت حاصل ہے، جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں فضائی ٹیکسی کا کرایہ بھی عام زمینی ٹیکسی کے برابر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو شہروں میں ٹریفک جام، سفر کا وقت اور فضائی آلودگی نمایاں حد تک کم ہو سکتی ہے۔پہاڑ، دریا، پل اور مصروف شاہراہیں اب سفر میں رکاوٹ نہیں بنیں گی، کیونکہ فضائی ٹیکسیاں سیدھا منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اڑنے والی گاڑیاں کبھی صرف فلموں اور کارٹونوں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب وہ حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔ اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہا تو آنے والے چند برسوں میں دنیا کے بڑے شہروں میں سڑکوں کے ساتھ ساتھ آسمان بھی ٹیکسیوں سے آباد نظر آئے گا، اور فضائی سفر صرف امیروں کی نہیں بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتا ہے






