دبئی ( پاک ترک نیوز) خلیج سے ایک ہولناک معاشی خبر۔ وہ شہر جو کل تک سرمایہ کاروں کا جنت تھا، آج خوف اور بحران کی تصویر بن چکا ہے!دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ایران جنگ کے اثرات سے ہل کر رہ گئی… اور اب صورتحال قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
دبئی سے سرمایہ دار بھاگ گئے ۔اسٹاک مارکیٹ بھی لرز گئی،لگژری اپارٹمنٹس اور فائیو اسٹار ہوٹلز خالی ہو ئے ،شور مچاتا دبئی اب خاموش ہو چکا ہے،ایران جنگ کے باعث دبئی کی چمک ماند پڑنے لگی ۔۔ایران جنگ نے دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا جہاں کبھی سرمایہ کاروں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں، اب وہاں سناٹا چھانے لگا ہے۔
دبئی میں پراپرٹی میں تیس فیصد سے زائد کمی ہو چکی ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے پہلے 17 ہزار 27 ٹرانزیکشن کے مقابلے میں 2 مارچ سے 29 مارچ تک 11 ہزار 828 ٹرانزیکشنز ہوئیں ، جنگ کے ایک ماہ کے دوران ٹرانزیکشن کا مجموعی حجم 36 فیصد کمی سے 16.53 ارب ڈالر سے 10.58 ارب ڈالر تک گر گیا۔ اسی طرح دبئی فنانشل مارکیٹ رئیل اسٹیٹ انڈیکس بھی 21.23 فیصد کم ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق پراپرٹی خریدنے کی طلب میں 70 فیصد تک کمی ہو چکی ہے ، سرمایہ کاروں نے انتظار کرو کی پالیسی اپنا لی ہے ، ماہرین کے مطابق یہ صرف شروعات ہے، اصل جھٹکے آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے۔
دبئی کی چمکتی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ، جو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز تھی، اب ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ ایران جنگ نے نہ صرف اعتماد کو ہلایا بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی محتاط بنا دیا ۔
کیا دبئی اپنی کھوئی ہوئی چمک واپس لا سکے گا؟یا یہ سنہری شہر اب معاشی بحران کی نئی مثال بننے جا رہا ہے؟












