لاہور( پاک ترک نیوز) ہاتھ میں ڈگری، آنکھوں میں خواب، گھر والوں کی امیدیں، مگر ملازمت کہاں ہے؟ برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اگر نوجوان نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو، تو سوال صرف ایک نوجوان کا نہیں، پورے معاشرے کے مستقبل کا ہے۔ پاکستان میں آج کا پڑھا لکھا نوجوان آخر جائے تو جائے کہاں؟پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد رہی، جبکہ بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 59 لاکھ بتائی گئی۔ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یعنی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک بڑا قومی چیلنج ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لینے والے نوجوانوں کو ملازمت کیوں نہیں مل رہی؟ کیا مارکیٹ میں مواقع کم ہیں، کیا تعلیم اور عملی مہارتوں میں فرق ہے، یا تجربے کی شرط نئے گریجویٹس کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے؟تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کتنے عرصے سے نوکری تلاش کر رہے ہیں؟ کتنی جگہوں پر سی وی جمع کروائی؟ کیا آپ کو تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کیا گیا؟ اور اگر نوکری مل بھی جائے تو کیا تنخواہ موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے؟دوسری جانب، روزگار کے راستے صرف سرکاری ملازمت یا دفتر کی نوکری تک محدود نہیں۔ سرکاری اسکلز ڈیولپمنٹ پورٹل کے مطابق مینوفیکچرنگ، تعمیرات، مہمان نوازی، صحت سے متعلق معاون شعبوں، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی طلب موجود ہے۔کمپیوٹر آپریشن، اکاؤنٹنگ، الیکٹریکل ٹیکنیشن، مشین آپریشن اور نرسنگ جیسے شعبے بھی روزگار کی منصوبہ بند طلب میں شامل ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار ملازمتوں کی پیش گوئی ہیں، تمام آسامیوں کے فوری دستیاب ہونے کی ضمانت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، منیبہ علی کپتان مقرر
نوجوانوں کے لیے پیغام واضح ہے: اپنی ڈگری کے ساتھ عملی مہارت، انٹرن شپ، ڈیجیٹل صلاحیت اور اپنے شعبے کے مطابق تجربہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ سرکاری اور نجی ملازمتوں کے ساتھ مستند تربیتی پروگراموں اور فنی تعلیم کے مواقع بھی تلاش کریں۔لیکن ذمہ داری صرف نوجوانوں کی نہیں۔ معیاری تعلیم، شفاف بھرتیاں، مناسب اجرت اور نئے گریجویٹس کے لیے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔آپ کے خیال میں پاکستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکری کیوں نہیں مل رہی؟ کیا مسئلہ مواقع کی کمی ہے یا تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات میں فرق؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں، کیونکہ ڈگری کے بعد روزگار کا سوال ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔









