واشنگٹن ڈی سی (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی عدالت کے حکم کے باوجود واشنگٹن میں تاریخی عوامی گالف کورس کی تعمیرِ نو 15 نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ دوسری جانب وفاقی جج نے حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے کہ آیا صدر کے تازہ اعلان کے بعد اس کا مؤقف تبدیل ہوا ہے یا نہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ ایسٹ پوٹومیک گالف کورس کی بحالی کا کام 15 نومبر سے شروع ہوگا اور منصوبہ تقریباً 15 ماہ میں مکمل ہونے کے بعد کورس دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ صدر نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں گالف کورس دنیا کے بہترین اور شاندار ترین میدانوں میں شامل ہو جائے گا۔
تاہم وفاقی جج آنا رئیس اس سے قبل تعمیراتی سرگرمیاں روکنے سے متعلق احکامات جاری کر چکی ہیں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ تاریخی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گالف کورس میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام شروع نہ کیا جائے۔
جج نے گزشتہ ہفتے اس مقام پر درختوں کی کٹائی روکنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس سے قبل انتظامیہ تقریباً 500 درخت کاٹ چکی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ درختوں کی کٹائی پارک میں حفاظت بہتر بنانے اور اس کے اصل نقشے کی بحالی کے لیے کی گئی، جبکہ مخالفین نے اس اقدام کو تاریخی مقام اور ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
ٹرمپ کے تازہ اعلان کا نوٹس لیتے ہوئے جج آنا رئیس نے حکومت کو اتوار کی رات 8 بجے تک وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا کہ آیا جمعے کو عدالت میں جمع کرائے گئے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ منصوبہ ابھی ابتدائی غور و خوض کے مرحلے میں ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی سرکاری فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس پر پابندیوں میں نرمی ،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ 106 سال پرانا یہ عوامی پارک اور گالف کورس مختلف آمدنی رکھنے والے شہریوں کے لیے تفریحی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسے مہنگی اور اشرافیہ کے لیے مخصوص سہولت میں تبدیل کرنے سے عام شہریوں کی رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈی سی پریزرویشن لیگ نے بھی اس منصوبے کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ تعمیرِ نو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی اور امریکی تاریخ کے ایک اہم حصے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔












