دوحہ(پاک ترک نیوز)
عرب اور اسرائیلی میڈیا نے دوحہ میں جاری غزہ جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کے مسودے کے مندرجات جاری کر دئیے ہیں۔ جن میں 60دن کی جنگ بندی کے دوران 28 اسرائیلی یرغمالی اور بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔اس کے بدلے اسرائیل شمالی غزہ سے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کرے گا ۔ اور بعد میں جنوبی حصوں سے بھی فوجی انخلا کرے گا۔اس مسودے کے مطابق جسے ثالثوں کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے۔ 28 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اس طرح ہو گی۔ 10زندہ افراد اور 18 لاشوں کے بدلے مکمل طور پر فوجی کارروائیاں روکی جائیں گی۔ اور اقوام متحدہ و ہلال احمر کی نگرانی میں غزہ کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔
https://www.youtube.com/watch?v=I4QTSHwFjQs
معاہدے پر عمل درآمد ایک طے شدہ نظام الاوقات کے تحت ہو گا ۔پہلے دن 8 زندہ قیدی، ساتویں دن 5 لاشیں، پھر تیسویں دن مزید 5 لاشیں، پچاسویں دن 2 زندہ قیدی، اور آخری دن مزید 8 لاشیں اسرائیل کےحوالے کی جائیں گی۔ مزید براں دسویں دن حماس باقی قیدیوں سے متعلق معلومات فراہم کرے گی۔ جبکہ اسرائیل بھی اُن 2000 سے زائد افراد کی معلومات ظاہر کرے گا جنھیں جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ سے انتظامی حراست میں لیا گیا ہے۔
معاہدے میں اسرائیل کی طرف سے بڑی تعداد میں فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کی شق بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جیسے ہی جنگ بندی نافذ ہو گی تو تمام عسکری کارروائیاں معطل ہو جائیں گی۔ اور غزہ کی فضائی حدود میں پروازیں روزانہ 10 گھنٹے معطل رہیں گی۔ جبکہ قیدیوں کی حوالگی والے دنوں میںیہ معطلی 12 گھنٹے تک بڑھائی جائے گی۔












