لاہور( پاک ترک نیوز) ناظرین، ذرا تصور کیجیے۔۔۔ جس مکھی کو ہم اکثر ایک معمولی سا کیڑا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اس کے ننھے سے دماغ میں ایسے پیچیدہ نظام موجود ہیں جو سائنسدانوں کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین مکھی کے دماغ کا مطالعہ کرکے انسانی دماغ کے کئی راز سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ مکھی کے سوئی کی نوک سے بھی چھوٹے دماغ کا انتہائی تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس ننھے سے دماغ میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار نیورونز اور 5 کروڑ سے زیادہ اعصابی رابطے موجود ہیں۔ اسے بالغ حشرات کے دماغ کی ساخت کا اب تک کا ایک انتہائی جامع سائنسی جائزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہی پیچیدہ نظام مکھی کو پرواز کرنے، دیواروں پر الٹا چلنے، خطرے کو فوری محسوس کرنے اور اپنے ساتھیوں سے مخصوص آوازوں کے ذریعے رابطہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب آپ مکھی کو ہاتھ یا اخبار سے مارنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اکثر آپ کے وار سے پہلے ہی اڑ جاتی ہے۔ اس کے دماغ میں موجود اعصابی نظام انتہائی تیزی سے خطرے کو محسوس کرتا ہے اور چند لمحوں میں جسم کو حرکت کرنے کا سگنل دے دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک
اس حیرت انگیز دماغی نقشے کی تیاری بھی کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔ سائنسدانوں نے مکھی کے دماغ کو تقریباً 70 ہزار انتہائی باریک حصوں میں تقسیم کیا، ہر حصے کی الگ تصویر بنائی اور پھر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان تمام تصاویر کو جوڑ کر دماغ کا مکمل نقشہ تیار کیا۔لیکن اس عمل میں اے آئی بھی مکمل طور پر غلطیوں سے پاک نہیں تھی۔ مصنوعی ذہانت کی جانب سے کی جانے والی تقریباً 30 لاکھ غلطیوں کو محققین نے دوبارہ جانچا اور درست کیا۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کی اہمیت صرف مکھی کے دماغ تک محدود نہیں۔ اس سے انسانی دماغ میں موجود پیچیدہ اعصابی رابطوں، یادداشت اور فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے، جبکہ الزائمر، پارکنسن اور دیگر اعصابی بیماریوں کی تحقیق میں بھی اس کے نتائج کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی دماغ کا مزید مکمل نقشہ تیار کرنا ممکن ہوگا۔
اگر ایسا ہوا تو نیورو سائنس، طب اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ایک نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔۔۔ اور شاید وہ وقت دور نہ ہو جب سائنس انسانی دماغ کے ان رازوں کو بھی سمجھنے کے قریب پہنچ جائے جنہیں آج تک ایک معمہ سمجھا جاتا ہے۔





