لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا ایک نئے خطرے کے سائے میں داخل ہو گئی ،اقوام متحدہ نے بھی آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خطرے کی گھنٹی بجا دی ،عالمی ادارے کا کہنا ہے اگر آبنائے ہُرمز بند رہی تو صرف تیل نہیں بلکہ عالمی غذائی سپلائی بھی متاثر ہوگی۔ اس کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک میں آنے والی فصلوں پر براہِ راست پڑیں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزر گاہ ہے ،جہاں سے مشرق وسطیٰ کا تیل اور گیس پوری دنیا تک پہنچتی ہے۔۔دنیا کے تقریباً 35 فیصد تیل کی ترسیل ،بیس فیصد قدرتی گیس ،اور بیس سے تیس فیصد کھاد کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے،۔ یہ بحران کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہو گا بلکہ پاکستان ،بھارت ،بنگلا دیش ،سری لنکا ،کینیا ،سوڈان ،برازیل ،تھائی لینڈ اور دیگر ممالک بھی شدید متاثر ہوں گے۔
چیف اکانومسٹ برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن اقوام متحدہ میکسیمو ٹوریرو کا کہناہے پاکستان ،بھارت سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں اگلی فصلیں لگانے کا وقت آچکا ہے،وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے یہ سب رکا ہوا ہے، کسان کو کھاد نہیں ملے گی تو وہ فصل کم لگائےگا، جو فصل لگےگی وہ کھاد کی عدم دستیابی سے اچھی پیداوار نہیں لائے گی اور اچھی پیداوار نہ ہونے سے غذا کی کمی ساری دنیا میں ہوگی۔
عالمی سطح پر گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار میں 10 سے 25 فیصد کمی کا خدشہ ہے ،کھاد کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے ،خوراک کی قیمتیں پہلے مرحلے میں 20 سے 40 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں ،خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
میکسیمو ٹوریرو نے مزید کہا اگر آبنائے ہُرمز چند دنوں میں کھل بھی جائے توسپلائی چین بحال ہونے میں کم از کم 3 ماہ لگیں گے ۔جبکہ مکمل استحکام میں 6 سے 9 ماہ لگ سکتے ہیں ۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔پاکستان اپنی کھاد کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے ،ڈیزل اور پیٹرول مہنگا ہونے سے زرعی لاگت بڑھ جائے گی ،کسان پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں اب ان پر مزید دباؤ پڑنے والا ہے ۔ آئندہ سیزن میں گندم اور چاول کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہُرمز کی بندش نے دنیا کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے ،یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی خوراک کی شہ رگ ہے ،اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو آنے والے مہینوں میں دنیا کو مہنگائی، قلت اور بھوک جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












