لاہور: (پاک ترک نیوز)لاہور ایک بار پھربسنت کے رنگ میں رنگ چکا ہے۔ بسنت، جسے کبھی پابندیوں، تنازعات اور خدشات کے باعث متنازع تہوار کہا جاتا تھا، آج ایک بار پھر لاہوریوں کے دلوں پر راج کرتی نظر آ رہی ہے۔
اس بار منظر کچھ اور بھی خاص ہے، کیونکہ بسنت صرف گلیوں اور چھتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اقتدار کے ایوانوں سے جڑی شخصیات بھی اس جشن میں کھل کر شامل دکھائی دے رہی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں یا پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، دونوں نہ صرف بسنت کے رنگوں میں رنگے نظر آ رہے ہیں بلکہ لاہوری عوام کے ساتھ اس تہوار کو بھرپور انداز میں انجوائے بھی کر رہے ہیں۔
کہیں پتنگیں اڑ رہی ہیں، کہیں موسیقی، کہیں قہقہے اور کہیں موبائل کیمرے لمحوں کو قید کر رہے ہیں۔یہ وہی بسنت ہے جس پر برسوں تک سوال اٹھتے رہے، جسے کبھی غیر محفوظ کہا گیا، کبھی ثقافت کے خلاف قرار دیا گیا۔
لاہور کی فضا، رنگین آسمان، پتنگوں کی ڈور اور مسکراتے چہرے۔ بسنت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ شہر خوشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا — چاہے وہ عوام ہوں یا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نمائندے۔
عوامی ردعمل بھی خاصا خوشگوار اور پرجوش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر رنگ برنگی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں ہر عمر کے لوگ بسنت کے اس تہوار کو بھرپور انداز میں انجوائے کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں چھتوں پر خاندان اکٹھے ہیں، کہیں دوستوں کی محفلیں سجی ہوئی ہیں اور کہیں موسیقی، قہقہے اور پتنگ بازی لاہور کی فضا کو مزید خوبصورت بنا رہے ہیں۔ اس منظر نے بسنت کو ایک بار پھر خالص خوشی، ثقافت اور اجتماعی انجوائےمنٹ کی علامت بنا دیا ہے، جہاں لوگ روزمرہ کی مصروفیات بھول کر زندگی کے رنگوں کو منانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔












