لاہور( پاک ترک نیوز) امریکہ کی ایران پر حملے کے آغاز میں بظاہر نظر آنے والی کامیابی اور حکمت عملی اب بری طرح ناکام دکھائی دیکھنے لگی ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید مشکل میں پھنس گئے ۔
امریکہ کو توقع تھی کہ ایرانی سسپریم لیڈر علی خامنہ ای اور سینئر قیادت کی شہادت کے بعد ایران میں رجیم چینج کا مرحلہ شروع ہو جائے گا تاہم یہ امریکہ کی اب تک کی خام خیالی ہی ثابت ہوا ہے ۔ٹرمپ کی یہ توقع کہ ایران میں عوامی بغاوت شروع ہوگی، پوری نہیں ہوئی۔ ایرانی حکومت نے اپنی یکجہتی برقرار رکھی، اور نتیجتاً امریکی منصوبے جلدی میں ٹوٹ گئے۔
ابتدائی فتح کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اہداف خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔ بلکہ، یہ ایک ایسا راستہ کھول دیتا ہے جس میں بعد کے اقدامات شامل ہیں جو کبھی اصل منصوبے کا حصہ نہیں تھے۔
امریکی حملے کے فورا بعد پاسداران انقلاب کی جانب سے آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کی ابتدا متحدہ عرب امارات، قطر، اور سعودی عرب کے خلاف حملے سے کی گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کے لیے تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا اور امریکہ کے لیے ہر منظر نامہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
اصل امریکی منصوبہ یہ تھا کہ ایران کو فوجی طور پر کمزور کرکے، خلیج میں نیا سیکیورٹی آرڈر قائم کیا جائے، جس میں عرب ممالک خطے کے ایجنٹس کے طور پر کام کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ پیچیدہ ہو گئی، اور امریکی وسائل اور حکمت عملی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے: ٹرمپ کے پاس کون سے راستے ہیں تاکہ وہ اس اسٹریٹجک الجھن سے باہر نکل سکیں؟ کیا امریکی قیادت ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی دوبارہ ترتیب دے سکتی ہے، یا یہ ٹرمپ کے لیے سیاسی اور فوجی تابوت ثابت ہوگا؟












