لاہور( پاک ترک نیوز) اسرائیل اور لبنان میں جنگ میں مزید وفقہ ہو گیا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیز فائر میں تین ہفتے توسیع کا اعلان کر دیا ۔دوسری طرف امریکا اور ایران کے مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں ،ایران کا نیوکلیئر پروگرام اسرائیل اور امریکا کے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،جب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی ،مکمل مفاہمت مشکل دیکھائی دے رہی ہے۔
اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا،اس نہایت تاریخی ملاقات‘ میں شریک ہونا بڑے اعزاز‘ کی بات ہے، مستقبل میں اسرائیلی وزیر اعظم اور لبنان کے صدر کی میزبانی کے منتظر ہیں۔ سعودی عرب کے رہنما بھی جنگ بندی سے بہت خوش ہوں گے۔ لبنان کو حزب اللہ سے بچانے کیلئے مل کر کام کرنا شروع کردیا۔۔ ایران کو حزب اللہ کی فنڈنگ بند کرنی چاہیئے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت پیغام دے دیا ،کہتے ہیں میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں، موقع دے رہا ہوں ،چاہتا ہوں بہتر ڈیل ہو جائے،معاہدہ نہ ہوا تو باقی رہ جانے والے اہداف کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ ایران میں 75فیصد تک اہداف کو حاصل کر لیا۔ آبنائے ہرمز ہمارے مکمل کنٹرول میں ہے۔ امریکا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے تیار ہے۔۔ ڈیل کے بغیر آبنائے ہرمز کھول کر ایران کو 50کروڑ ڈالر یومیہ کمانے نہیں دوں گا۔ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کیخلاف نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کو احمقانہ قرار دیا۔ کہا، کسی کو بھی نیوکلیئر ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔
ادھر اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایران کو دھمکی دے دی ،کہتےہیں ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکا کے گرین سگنل کا انتظار ہے، اشارہ ملتے ہی ایران کو تاریکی اور پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔ امریکی اشارہ ملتے ہی سب سے پہلے خامنہ ای کے پورے خاندان کو ختم کردیں گے۔اس بار ایران پر حملہ مختلف اور مہلک ہوگا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ مقامات پر تباہ کن ضربیں لگائی جائیں گی جو ایران کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں گی اور انھیں منہدم کر دیں گی۔
ماہرین کے مطابق، اگر پس پردہ مذاکرات جاری رہے تو پہلے “کشیدگی میں کمی” اور پھر محدود معاہدوں کا راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن مکمل امن ابھی بھی ایک دور کا خواب ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بعد خطے میں ایک بڑا سوال گردش کر رہا ہے کیا یہی پیش رفت ایران تک بھی پہنچ سکتی ہے یا ایک نئی جنگ جنم لے رہی ہے؟ آنے والے ہفتے فیصلہ کن ہوں گے۔











