لاہور ( پاک ترک نیوز) امریکہ اور روس کے صدور کے درمیان جمعہ کے روز ہونے والی انتہائی اہم ملاقات کا مقام الاسکا کی امریکی ریاست کبھی روس کا حصہ تھی۔ اس کی خریداری 1867 میں اس وقت کے زار روس الیگزنڈر دوئم سے 7.2 ملین ڈالرمیں کی گئی۔ جو موجودہ 129 ملین ڈالر کے مساوی ہے۔ اسی سال 15 مئی کوامریکہ کی سینیٹ نے ایک دو طرفہ معاہدے کی توثیق کی جس پر 30 مارچ کو دستخط کیے گئے تھے۔ اور کے نتیجے میں 18 اکتوبر 1867 کو الاسکا پر امریکی خودمختاری قانونی طور پر موثر ہو گئی۔
تاریخی حقائق کے مطابق روس کے الیگزینڈر د و ئم نے کریمیا کی جنگ میں تباہ کن شکست کا سامنا کرنے کے بعدالاسکا کے املاک کو فروخت کرنے کے امکان کو تلاش کرنا شروع کیا کیونکہ اس کا مستقبل کی کسی بھی جنگ میں برطانیہ سے دفاع کرنا مشکل تھا۔چنانچہ اس مقصد کے لیے، اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم ایچ سیوارڈ نے الاسکا کے حصول کے لیے روسی سفارت کار ایڈورڈ ڈی سٹوک کے ساتھ بات چیت کی۔ جو بالآخر 30 مارچ 1867 کو فروخت کے معاہدے پر منتج ہوئی۔
اس معاہدے کے تحت ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے 586,412 مربع میل یعنی1,518,800 مربع کلو میٹر رقبےکا اضافہ ہو گیا۔ جو صرف دو امریکی سینٹ فی ایکڑ کے حساب سےخریدی گئی تھی۔ یہ رقبہ پاکستان کے8لاکھ 81ہزار913مربع کلو میڑمجموعی رقبے سے تقریباً دوگنا ہے۔
شروع میں امریکیوں کے درمیان الاسکا کی خریداری پر ملا جلا ردعمل تھا ۔کچھ اسے امریکہ کے لئے فائدہ مند قرار دے رہے تھے تو مخالفین اسے بیکار زمین اور اسٹورڈ کی بے وقوفی کہتے تھے۔ تاہم 1896 میں کلونڈائک گولڈ رش شروع ہونے تک الاسکا بہت کم آباد تھا۔یہ بلدیاتی اعتبار سے 1912میں ضلع قرار پایا ۔اور بالآخر 1959 میں جدید دور کی ریاست الاسکا بن گیا۔جو رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے۔












