واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مشی گن سے سینیٹ کی ڈیموکریٹک پرائمری میں عبدال السید نے کامیابی حاصل کر کے سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
عبدال السید کی کامیابی کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جہاں ان کے مدِمقابل کو پارٹی کے بااثر حلقوں اور مختلف سیاسی تنظیموں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
سوال یہ ہے کہ عبدال السید کون ہیں، ان کی سیاست کس نظریے کی نمائندگی کرتی ہے، اور ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں کیوں اہم سمجھا جا رہا ہے؟
مصری نژاد امریکی عبدال السید پیشے کے اعتبار سے معالج ہیں اور ماضی میں ریاست مشی گن کے محکمۂ صحت کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ وہ خود کو ترقی پسند سیاست دان قرار دیتے ہیں اور اپنی انتخابی مہم میں صحت، تعلیم، معاشی انصاف اور انتخابی اصلاحات جیسے نکات پر زور دیتے رہے۔
ان کی انتخابی مہم کو ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل رہی، جبکہ ان کے مخالف امیدوار کو پارٹی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف سیاسی ایکشن کمیٹیوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فضائیہ کا جدید ایف-47 جنگی طیارہ 2028 میں پہلی پرواز کرے گا
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخاب نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی میں روایتی قیادت کا اثر برقرار رہے گا یا ترقی پسند دھڑا مزید مضبوط ہوگا۔
اب اگلا مرحلہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات کا ہے، جہاں عبدال السید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار سے ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انتخاب کا نتیجہ نہ صرف مشی گن بلکہ امریکی سینیٹ کے مستقبل اور ڈیموکریٹک پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔







