ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک ایسی دریافت کی ہے جس نے تاریخ کے کئی پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھا دیا ۔ ریاض کے تاریخی علاقے دریہ میں کھدائی کے دوران ایک قدیم مٹی کا برتن ملا ہے جس میں سونے کے سکے، چاندی کی نایاب اشیاء اور قیمتی جواہرات سے مزین زیورات محفوظ تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خزانہ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل کسی حاجی نے مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران زمین میں دفن کیا تھا۔
ریاض کے تاریخی علاقے دریہ میں جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ماہرین کو ایک غیرمعمولی دریافت ہاتھ لگی۔ مٹی کے ایک قدیم برتن میں محفوظ سونے، چاندی اور قیمتی جواہرات پر مشتمل خزانے نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ سعودی ہیریٹج کمیشن کے مطابق یہ دریافت دریہ میں جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے چھٹے مرحلے کے دوران سامنے آئی، جہاں عباسی دور کے تقریباً 100 سونے کے سکے، چاندی کی متعدد اشیاء اور قیمتی پتھروں سے مزین زیورات برآمد ہوئے۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا خزانہ غالباً ایک ایسے حاجی سے تعلق رکھتا تھا جو صدیوں قبل مکہ مکرمہ کے سفر پر روانہ تھا۔ کسی نامعلوم وجہ سے اس نے اپنے قیمتی اثاثے مٹی کے برتن میں محفوظ کرکے زمین میں دفن کر دیے، جو وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق دریہ کا یہ مقام ماضی میں عراق کے شہر بصرہ سے مکہ مکرمہ جانے والے حجاج کرام کے لیے ایک اہم پڑاؤ تھا۔ اس راستے پر مسافر آرام کرتے، پانی اور خوراک حاصل کرتے اور پھر اپنے سفرِ حج کو جاری رکھتے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس علاقے کی بڑی آبادیاں آٹھویں صدی عیسوی کے وسط میں قائم ہوئیں اور یہ خطہ تجارتی اور مذہبی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا۔ دریافت ہونے والے سکے اور زیورات نہ صرف اس دور کی معاشی سرگرمیوں کی جھلک پیش کرتے ہیں بلکہ عباسی دور کے فن، دستکاری اور تجارتی روابط کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ اب دریافت شدہ نوادرات کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی درست عمر، اصل مقام اور تاریخی پس منظر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خزانہ اسلامی تاریخ، قدیم حج راستوں اور عباسی دور کی تہذیبی زندگی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
صدیوں تک زمین کے سینے میں محفوظ رہنے والا یہ خزانہ آج ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دریہ کی یہ تاریخی دریافت نہ صرف سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ قدیم حج راستے صرف سفر کی گزرگاہیں نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور انسانی داستانوں کے امین بھی تھے۔








