لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بڑی جنگ کے دہانے سے واپس آ گئی! پاکستان کی فیصلہ کن سفارتکاری نے وہ کر دکھایا جو بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں رنگ لے آئیں، اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روک دیئے۔
خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے! بڑی پیش رفت سامنے آ گئی—امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم، اور جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے معطل کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنگ بندی آبنائے ہرمز کے مکمل تحفظ سے مشروط ہے، جبکہ متنازع نکات پر بھی بڑی حد تک اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام لا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا جنگ بندی پر آمادہ ہونا خوش آئند ہے، اور یہ عالمی امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ فریقین لبنان اور دیگر علاقوں میں بھی حملے روکنے پر متفق ہو گئے ہیں، اور جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
ایران نے بھی جنگ بندی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روکے گئے تو ایرانی افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔
دوسری جانب اسرائیل بھی میدان میں آ گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ایران پر بمباری روکنے کا اعلان کر دیا۔وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق اسرائیل بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہو گا، جبکہ لبنان کو اس جنگ سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
آج عالمی امن کے لیے بڑا دن ہے۔ ایران سمیت ہر کوئی چاہتا تھا کہ جنگ بندی ہو۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فرانسیسی خبر ایجنسی سے گفتگو ،کہا ایران کے خلاف جنگ میں امریکا نے مکمل فتح حاصل کی ۔امن معاہدے میں ایران کے جوہری مواد کا معاملہ بھی ہو گا، ایران کی یورینیم کو مکمل طور پر سنبھال لیا جائے گاورنہ میں یہ معاہدہ نہ کرتا۔امریکا آبنائے ہرمز میں آمدو رفت کی بحالی میں مدد دے گا۔ہمیں ہر قسم کی سپلائی وافر مقدار میں ملے گی ۔ ایران تعمیر نو کا عمل فوری شروع کر سکتا ہے۔












