لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں فائبر کی کمی فائیو جی میں بڑٰ رکاوٹ بن گئی ،کراچی اور لاہور جیسے بڑوں شہروں میں بھی فائیو جی کی رفتار مایوس کن حد تک سست ہے ،اس وقت پاکستان میں اوسط انٹرنیٹ اسپیڈ تقریباً 25 ایم بی پی ایس ہے، جس کے باعث ملک عالمی درجہ بندی میں 198ویں نمبر پر ہے۔ ٹیلی کام ماہرین کے مطابق سیلولر کمپنیوں کو حکومت کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کرنی چاہیے تاکہ ملک بھر میں آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دی جا سکے اور بڑے شہروں ٹیکنالوجی کا مؤثر تجارتی آغاز ممکن ہو سکے۔
پاکستان میں ژونگ ،یو فون ،جیز کمپنیوں کو فائیو جی کے لائسنس دیئے گئے،کمپنیوں کو بڑے شہری مراکز میں سروسز شروع کرنے کی اجازت ملی ہے۔ اگرچہ کچھ کمپنیوں نے محدود پیمانے پر فائیو جی ٹرائلز کیے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر تیز رفتار انٹرنیٹ شروع کرنے کیلئے کافی کام باقی ہے ۔
پاکستان میں فائیو جی کے کامیاب نفاذ کے لیے آپیٹککل فائرب کی تنصیب بنیادی حیثیت رکھتی ہے تاہم اس راہ میں کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ اس وقت صرف 15 سے 18 فیصد سیل سائٹس فائبر فائیو جی سے منسلک ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر ٹاورز مائیکروویو لنکس پر انحصار کرتے ہیں، جو فائیو جی کی زیادہ گنجائش اور کم تاخیر کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔
رائٹ آف وے کی منظوری کے عمل میں مختلف ادارے جیسے بلدیاتی ادارے، کنٹونمنٹ بورڈز اور ترقیاتی اتھارٹیز شامل ہیں، جس کے باعث 12 سے 18 ماہ تک تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ، اگرچہ حکومت کی جانب سے اہم راہداریوں پر را فیس ختم کرنے سے کچھ ریلیف ملا ہے ۔
زیادہ سرمایہ کاری لاگت ،مہنگائی ،کم اوسط آمدنی فی صارف ٹیکسز بھی فائبر نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی مسائل، سیلاب کے خطرات، اور فائبر کی تنصیب و مرمت کے لیے ماہر افرادی قوت کی کمی بھی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ شہری ہجوم اور دیہی پھیلاؤ کے باعث ترقی کی رفتار غیر متوازن ہے۔ پاکستان میں فائبر نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی 2 لاکھ 11 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے، لیکن بیل ہال کی کمی فائیو جی کی مکمل صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر یکساں پالیسی ،منظوری کے عمل میں تیزی ،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور ڈیجیٹل اکانومی جیسے اقدامات کے تحت مراعات دینا ضروری ہے ، اگر آئندہ برسوں میں فائبرائزیشن کو کم از کم 60 فیصد تک نہ بڑھایا گیا تو فائیو سروسز شدید دباو میں رہیں گی اور ڈیجیٹل ترقی کے اہداف متاثر ہوں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی ،ٹیلی کام کمپنیوں اور حکومت کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔
ٹیلی کام انجینئر شکیل محمد کے مطابق فائبر انفراسٹرکچر کی توسیع نہ صرف مہنگا بلکہ ایک پیچیدہ عمل بھی ہے، خاص طور پر گنجان آباد شہروں میں تیز رفتار تنصیب کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یونیورسل سروس فنص کے ذریعے اور کمپنیوں کو خود بھی ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ فائیو انفراسٹرکچر کی تیز تنصیب میں ماہر افرادی قوت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے باعث کمپنیوں کو بیرون ملک سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا پڑ سکتی ہیں۔
حکومت نے ایک سو اکتالیس ارب روپے کی مجموعی فنڈ میں سے پینتیس ارب روپے یونیورسل سروس فنڈ کے تھت ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے مختص کیے ہیں ،تاکہ مختلف علاقوں میں فائبر نیٹ ورک کو وسعت دی جا سکے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق جون 2025 تک ملک کے 58,423 سیل سائٹس میں سے صرف 18 فیصد فائبر سے منسلک تھیں۔
ٹیکنالوجی ماہر ڈاکٹر نعمان سعید کے مطابق جدید ٹیلی کام آلات کی تنصیب نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مددگار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب،5Gسے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
انہوں نے مقامی سطح پر آئی ٹی اور ٹیلی کام آلات کی تیاری کے لیے طویل مدتی پالیسی بنانے پر زور دیا تاکہ درآمدی اخراجات کم کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائبر نیٹ ورک کی تیز توسیع ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے ضروری ہے، جس سے معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔












