لاہور( پاک ترک نیوز) ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی سسٹین ایبلٹی امپیکٹ رینکنگ 2026 میں پاکستان کی 52 جامعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف لاہور عالمی سطح پر 71ویں نمبر پر آ کر پائیدار ترقی کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ 100 جامعات میں جگہ بنانے والی پہلی پاکستانی یونیورسٹی بن گئی ہے۔
رینکنگ میں 116 ممالک اور خطوں کی ایک ہزار 646 جامعات کا جائزہ لیا گیا، جنہیں اقوام متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول میں کردار کی بنیاد پر جانچا گیا۔ پاکستان ان 9 ممالک میں شامل ہے جن کی 50 سے زائد جامعات اس عالمی درجہ بندی کا حصہ بنیں۔
301 سے 400 کی درجہ بندی میں یونیورسٹی آف لاہور 71ویں نمبر پر ہے،اس فہرست میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، رحیم یار خان ،محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر، ملتان ،سپیریئر یونیورسٹی بھی شامل ہے
401 سے 600 کی درجہ بندی میں اقرا یونیورسٹی ،لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ،این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ،یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور ،یونیورسٹی آف فیصل آباد ،یونیورسٹی آف کوٹلی، آزاد جموں و کشمیر ،یونیورسٹی آف پونچھ، راولاکوٹ ،یونیورسٹی آف واہ ،ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، باغ شامل ہے
601 سے 800 کی درجہ بندی میں ایئر یونیورسٹی ،بحریہ یونیورسٹی ،ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ،فاؤنڈیشن یونیورسٹی، اسلام آباد ،غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ،گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی، سیالکوٹ ،راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ،دی ویمن یونیورسٹی، ملتان ،یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب ،یونیورسٹی آف گجرات ،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، لاہور ،ضیاء الدین یونیورسٹی شامل ہے
801 سے 1000 کی درجہ بندی میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی،فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ،منہاج یونیورسٹی لاہور ، قائداعظم یونیورسٹی ،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ،شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی ،سکھر آئی بی اے یونیورسٹی ،یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان
1001 سے 1500 کی درجہ بندی میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور ،سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پشاور ،داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ،گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی، لاہور ،انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد ،اقرا نیشنل یونیورسٹی ،لاہور گیریژن یونیورسٹی ،قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ،شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ،سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی ،سازبسٹ (SZABIST) یونیورسٹی ،یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر ،جامعہ کراچی شامل ہے۔
1501 سے آگے کی درجہ بندی میں راشد لطیف خان یونیورسٹی ،شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج ،آرور یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج، سکھر شامل ہے
رپورٹ کے مطابق، شامل ہونے والی 52 پاکستانی جامعات میں 33 سرکاری جبکہ 19 نجی شعبے سے تعلق رکھتی ہیں۔ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی یہ عالمی درجہ بندی جامعات کی کارکردگی کو تحقیق، انتظام و حکمرانی، سماجی خدمات اور تدریس سمیت چار بنیادی شعبوں میں جانچتی ہے۔ مجموعی رینکنگ کے لیے جامعات کو ایس ڈی جی 17 (شراکت داری برائے اہداف) سمیت کم از کم چار اہداف پر اپنی کارکردگی کا ڈیٹا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر یونیورسٹی آف مانچسٹر پہلے ، گریفتھ یونیورسٹی ،آسٹریلیا، دوسرے نمبر پر رہی۔ فلپائن سب سے زیادہ 160 جامعات کے ساتھ اس عالمی رینکنگ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔






